مسلمان دہشت گرد نہیں، مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے والے اور نفرت پھیلانے والے دہشت گرد ہیں
اسلام کو مٹانے والے خود مٹ گئے اور اسلام زندہ رہا اور قیامت تک زندہ رہے گا اور جہاں جہاں اسلام کو مٹانے کی کوششیں ہورہی ہیں وہاں اسلام اپنا لوہا منوارہا ہے
نئی دہلی : ہندوستان میں مدارس اسلامیہ کی جنگ آزادی میں ناقابل فراموش خدمات کا ذکر کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند اور ام المدارس دارالعلوم دیوبند کے صدرالمدرسین مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ مدارس اسلامیہ نے جنگ آزادی میں اس وقت کردار ادا کیا تھا جب پورا ملک انگریزوں کی دہشت میں مبتلا تھا
انہوں نے دارالعلوم دیوبند میں یوم آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کیا ہوتی ہے ہم سے پوچھو، قربانیاں ہم نے دی ہیں، جن مدارس کے حجروں، درسگاہوں اور خانقاہوں سے غلامی کے خلاف آزادی کا صور پھونکا گیا، آج انہی کو دہشت گردی سے جوڑنا تاریخ کو مسخ کرنے کی ناپاک کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے اسلاف نے قومی یکجہتی اور سیکولرازم کا تصور اس وقت پیش کیا تھا جب جلاوطن حکومت قائم کی گئی تھی۔ انہوان نے کہا کہ کابل کی جلاوطن حکومت میں ہندو راجہ مہندر پرتاپ صدر، کو بنا کر ہمارے اکابر نے آزادی سے پہلے ہی سیکولرازم کا تصور دیا اور افسوس آج فرقہ پرست طاقتیں سیکولر کا لفظ دستور سے نکالنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیکولرازم ہندستان کی شناخت ہے اور اس کی روح ہے اور جس دن ملک سے سیکولرازم نکل جائے گا اس دن ملک کا تانا بانا بکھر جائے گا۔
انہوں نے ملک کے حالات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے مسلمان نشانے پر تھے، اب اسلام بھی نشانے پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام کو مٹانے والے خود مٹ گئے، اسلام زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا۔
مولانا مدنی نے کہا کہ تحریک ریشمی رومال اور مالٹا کی اسیری ہماری تاریخ کے ایسے روشن ابواب ہیں جنہیں کوئی فرقہ پرست طاقت مٹا نہیں سکتی شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ اور شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی اور ان کے رفقاء کو سات سمندر پار مالٹا میں اس لیے قید کیا گیا تھا کہ وہ ہندوستان کو برطانوی غلامی سے ازاد دیکھنا چاہتے تھے
فرقہ پرستوں سے سوال ہے کہ جب ہمارے اکابر مالٹا میں قید تھے اور علماء انگریزوں کے خلاف جیلیں بھر رہے تھے اور ازادی کے لیے اپنی جانیں قربان کر رہے تھے تو اج حب الوطنی کا سند بانٹنے والوں کے نظریاتی پیشوا اس وقت کہاں تھے اس لیے مسلمانوں اور مدارس سے وطن پرستی کا ثبوت مانگنے سے پہلے انہیں تاریخ کے ائینے میں اپنا ماضی دیکھنا چاہیے۔
مولانا مدنی نے مزید کہا کہ ایسا نہیں ہے پہلے جو لوگ اقتدار میں تھے وہ ان حالات کے ذمہ دار نہیں ہیں بلکہ انہوں نے بھی مسلمانوں کو سماجی تعلیمی سیاسی طور پر نقصان پہنچانے کی ہمیشہ کوششیں کی مسلم کش فسادات بھی ہوتے رہے لیکن تب میں اور اب میں بڑا فرق یہ ہے کہ اس وقت مسلمان نشانے پہ تھے مگر اب اسلام بھی نشانے پر ہے۔ اسلام کو مٹانے والے خود مٹ گئے اور اسلام زندہ رہا اور قیامت تک زندہ رہے گا اور جہاں جہاں اسلام کو مٹانے کی کوششیں ہورہی ہیں وہاں اسلام اپنا لوہا منوارہا ہے۔
مولانا مدنی نے سوویت روس کا حوالہ دے کر کہا جہاں کمیونزم کو بڑھاوادیکر اسلام کو ختم کرنے کی برسوں کی کوششیں ہوتی رہیں یہاں تک کہ مساجد دینی مدارس پر پابندیاں عائد کر دی گئیں برسوں کسی مسجد سے اذان تک کی اواز نہیں ائی مگر پھر دنیا نے دیکھا کہ روس کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے اس کے بعد کئی مسلم مملکتیں وجود میں آئیں تمام تر ظلم اور بربریت کے بعد اسلام زندہ ہے اور مسلمان زندہ ہے، کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری صدیوں سے دشمن رہا دور زماں ہمارا۔