شمالی بھارت

نوجوت سنگھ سدھو کی بی جے پی میں واپسی، یوراج سنگھ کو گورداسپور کا ٹکٹ؟ بھگوا پارٹی میں چہ میگوئیاں

پنجاب کانگریس کے لیڈر نوجوت سنگھ سدھو کی مبینہ طور پر بی جے پی میں واپسی کی افواہیں گرم ہیں جبکہ بھگوا پارٹی پنجاب کی سیاست میں ایک اور کرکٹر یوراج سنگھ کو لانے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ امکان ہے کہ یوراج کو لوک سبھا انتخابات میں گورداسپور سے بی جے پی کا امیدوار بنایا جائے گا۔

چنڈی گڑھ: پنجاب کانگریس کے لیڈر نوجوت سنگھ سدھو کی مبینہ طور پر بی جے پی میں واپسی کی افواہیں گرم ہیں جبکہ بھگوا پارٹی پنجاب کی سیاست میں ایک اور کرکٹر یوراج سنگھ کو لانے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ امکان ہے کہ یوراج کو لوک سبھا انتخابات میں گورداسپور سے بی جے پی کا امیدوار بنایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں
حیدر آباد کے 5 لاکھ 41 ہزار بوگس ووٹ فہرست سے حذف
صوبہ پنجاب میں پاکستان کے رمیش سنگھ اروڑہ پہلے سکھ وزیر
مسلمان، بی جے پی کوووٹ دیں گے: صدر آسام یونٹ
آخری تاریخ کے بعد ووٹرلسٹ میں اندراج نہیں ہوگا: رونالڈ راس
لالچ سے پاک لوک سبھا انتخابات کو یقینی بنانے کی کوشش: چیف الیکشن کمشنر

پنجاب کے ماجھا علاقے میں بی جے پی لیڈروں کو لگتا ہے کہ سدھو دوبارہ بھگوا پارٹی میں شامل ہو سکتے ہیں اور بی جے پی کی طرف سے پنجاب کی کسی نشست سے لوک سبھا کا ٹکٹ حاصل کر سکتے ہیں، حالانکہ سدھو کے کانگریس میں راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جے پی لیڈر سوم دیو شرما نے کہا کہ سدھو کے بھگوا پارٹی میں شامل ہونے کے ارد گرد مضبوط اشارے ملے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کے دیگر رہنماؤں اور ممکنہ امیدواروں کے ساتھ ان کی شمولیت کے سلسلہ میں بات چیت جاری ہے۔ ہم حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

سوم دیو شرما نے کہا کہ امرتسر لوک سبھا حلقہ روایتی طور پر بی جے پی کا گڑھ رہا ہے اور اگر پارٹی سدھو کو امرتسر لوک سبھا سیٹ سے میدان میں اتارتی ہے تو وہ جیت سکتے ہیں۔

تاہم، کانگریس لیڈر رمن بخشی کا دوسری طرف کہنا ہے کہ ایک لیڈر ایک پارٹی سے دوسری پارٹی میں جا تا ہے تو اپنی توجہ اور ساکھ کھو دیتا ہے۔ انہوں نے سدھو کی بی جے پی میں واپسی کو مسترد کردیا۔ وہیں ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کانگریس سدھو کو امرتسر سے میدان میں اتار سکتی ہے۔

دوسری طرف اطلاعات کے مطابق گورداسپور کی نشست سنی دیول کے بجائے کرکٹر یوراج سنگھ کی جھولی میں جاسکتی ہے کیونکہ بی جے پی اس مرتبہ سنی دیول کے بجائے یوراج سنگھ کو اس لوک سبھا نشست سے اپنا امیدوار بنانا چاہتی ہے۔

بی جے پی لیڈر سوم دیو شرما نے کہا کہ اس بات کا حالیہ اشارہ مرکزی وزیر نتن گڈکری کے ساتھ ان کی ملاقات میں ملا ہے۔ اس سے پہلے بی جے پی نے گورداسپور لوک سبھا سیٹ سے مشہور شخصیتوں جیسے ونود کھنہ اور سنی دیول کو اپنا امیدوار بنایا تھا۔

گزشتہ سال دسمبر میں دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال نے گورداسپور میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ سنی دیول کی خود ان کے حلقہ میں عدم موجودگی پر تنقید کی تھی۔