این ایچ آر سی نے وشاکھاپٹنم اسٹیل پلانٹ دھماکے میں آٹھ مزدوروں کی موت کا از خود نوٹس لیا
این ایچ آر سی نے جمعرات کو یہاں بتایا کہ کمیشن نے اس معاملے کو انسانی حقوق کی ممکنہ خلاف ورزی سے جڑا بتاتے ہوئے آندھرا پردیش کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کیا ہے اور دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
نئی دہلی: قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے آندھرا پردیش کے وشاکھاپٹنم میں واقع راشٹریہ اسپات نگم لمیٹڈ کے اسٹیل پلانٹ میں ہوئے ہولناک دھماکے میں آٹھ مزدوروں کی موت کے معاملے کا از خود نوٹس لیا ہے۔
این ایچ آر سی نے جمعرات کو یہاں بتایا کہ کمیشن نے اس معاملے کو انسانی حقوق کی ممکنہ خلاف ورزی سے جڑا بتاتے ہوئے آندھرا پردیش کے چیف سکریٹری کو نوٹس جاری کیا ہے اور دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔
کمیشن نے کہا کہ میڈیا رپورٹوں کے مطابق، یہ حادثہ آٹھ جون کو وشاکھاپٹنم اسٹیل پلانٹ کے ‘اسٹیل میلٹنگ شاپ’ میں پیش آیا۔ ایسا بتایا گیا ہے کہ تقریباً 1600 ڈگری سیلسیس درجہ حرارت پر قریب 150 ٹن پگھلا ہوا اسٹیل لے جا رہا ایک ‘لیڈل’ اچانک دھماکے کا شکار ہو گیا۔
اس کے بعد پگھلا ہوا اسٹیل جائے وقوع پر پھیل گیا، جس سے وہاں موجود مزدور شدید طور پر جھلس گئے۔ مزدور یونین نے الزام لگایا ہے کہ پلانٹ انتظامیہ نے حفاظتی معیارات اور ضروری حفاظتی پروٹوکول کو نظر انداز کیا، جس کی وجہ سے یہ سنگین حادثہ پیش آیا۔
این ایچ آر سی نے کہا کہ اگر میڈیا رپورٹوں میں بتائے گئے حقائق درست پائے جاتے ہیں، تو یہ معاملہ مزدوروں کے انسانی حقوق اور کام کی جگہ کی حفاظت سے جڑی سنگین تشویش کو اجاگر کرتا ہے۔