قومی

لال قلعہ کار بم دھماکہ کیس میں این آئی اے نے 10 ملزمان کے خلاف 7500 صفحات کی چارج شیٹ داخل کی

مرکزی سازش کار پلوامہ کا رہائشی ڈاکٹر عمر النبی ہریانہ کے فرید آباد میں واقع الفلاح یونیورسٹی میں میڈیسن ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر رہ چکا تھا۔ اس کی موت ہو چکی ہے اور اس کے خلاف کارروائی ختم کرنے کی تجویز عدالت میں رکھی گئی ہے۔

نئی دہلی: قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے لال قلعہ کے علاقے میں ہونے والے کار بم دھماکے کے معاملے میں 10 ملزمان کے خلاف 7500 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ داخل کی ہے، جس میں 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔

متعلقہ خبریں
جسمانی اعضاء کی بین الاقوامی تجارت کا ریاکٹ بے نقاب
این آئی اے پر ہائی کورٹ ڈیویژن بنچ کی تنقید
یٰسین ملک سزائے موت کیس، سماعت سے ہائیکورٹ جج نے علیحدگی اختیار کرلی
سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت میں 4 سال کی تاخیر پر این آئی اے کی سرزنش کی
جموں و کشمیر میں جیش محمد کے کمانڈر کی 6 جائیدادیں ضبط: این آئی اے


گزشتہ سال 10 نومبر کو قومی راجدھانی میں ایک کار میں نصب طاقتور دھماکہ خیز آلے کے دھماکے سے علاقے میں زبردست تباہی ہوئی تھی اور آس پاس کی املاک کو بھی بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا تھا۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں واقع این آئی اے کی خصوصی عدالت میں داخل کی گئی چارج شیٹ کے مطابق، 10 ملزمان میں مرکزی سازش کار ڈاکٹر عمر النبی بھی شامل ہے جو دھماکے کے دوران ہلاک ہو گیا تھا۔

وہ دہشت گرد تنظیم انصار غزوہ ہند (اے جی یو ایچ) سے وابستہ تھا، جو کہ برصغیر ہند میں القاعدہ (اے کیو آئی ایس) کا ایک اتحادی گروپ ہے۔ وزارتِ داخلہ نے جون 2018 میں اے کیو آئی ایس اور اس سے وابستہ تمام تنظیموں کو دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا تھا۔


چارج شیٹ غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ 1967، بھارتیہ نیا سنہیتا 2023، دھماکہ خیز مادہ ایکٹ 1908، اسلحہ ایکٹ 1959 اور عوامی املاک کے نقصان کی روک تھام کے ایکٹ 1984 کی مختلف دفعات کے تحت داخل کی گئی ہے۔

مرکزی سازش کار پلوامہ کا رہائشی ڈاکٹر عمر النبی ہریانہ کے فرید آباد میں واقع الفلاح یونیورسٹی میں میڈیسن ڈیپارٹمنٹ میں اسسٹنٹ پروفیسر رہ چکا تھا۔ اس کی موت ہو چکی ہے اور اس کے خلاف کارروائی ختم کرنے کی تجویز عدالت میں رکھی گئی ہے۔

فردِ جرم میں عامر راشد میر، جاسر بلال وانی، ڈاکٹر مزمل شکیل، ڈاکٹر عادل احمد راتھر، ڈاکٹر شاہین سعید، مفتی عرفان احمد واگے، شعیب، ڈاکٹر بلال نصیر ملہ اور یاسر احمد ڈار کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔


این آئی اے کے مطابق تحقیقات کے دائرے میں جموں و کشمیر، ہریانہ، اتر پردیش، مہاراشٹر، گجرات اور دہلی این سی آر کے کئی علاقے آئے۔ ایجنسی نے 588 زبانی شہادتوں، 395 سے زائد دستاویزات اور 200 سے زائد ضبط شدہ اشیاء کو ثبوت کے طور پر چارج شیٹ میں شامل کیا ہے۔

لال قلعہ دھماکے میں استعمال ہونے والا ٹرائی ایکیٹون ٹرائی پیرو آکسائیڈ (ٹی اے ٹی پی) دھماکہ خیز مواد ملزمان نے خود تیار کیا تھا۔ اس کے لیے ضروری کیمیکلز اور آلات خفیہ طریقے سے جمع کیے گئے تھے اور دھماکہ خیز مرکب کو مزید مہلک بنانے کے لیے کئی تجربات کیے گئے تھے۔


این آئی اے نے بتایا کہ ملزمان نے اے کے-47 اور کرینکوو رائفلوں سمیت ممنوعہ ہتھیاروں کی غیر قانونی خریداری بھی کی تھی۔ اس کے علاوہ وہ ڈرون اور راکٹ پر مبنی آئی ای ڈی تیار کر کے جموں و کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں سکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبے پر کام کر رہے تھے۔

ایجنسی نے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ، فارنزک جانچ اور وائس تجزیہ کے ذریعے پورے دہشت گرد نیٹ ورک کا انکشاف کیا۔ تحقیقات کے دوران الفلاح یونیورسٹی، فرید آباد اور جموں و کشمیر کے مختلف ٹھکانوں سے اہم ثبوت جمع کیے گئے۔ این آئی اے نے کہا کہ اس معاملے میں اب تک 11 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جبکہ مفرور ملزمان کی تلاش اور تحقیقات ابھی جاری ہیں۔