روایت سے بغاوت نہیں بلکہ مثبت تبدیلی وقت کی اہم ضرورت: ڈاکٹر راہی فدائی
معروف عالمِ دین، ادیب، شاعر اور محقق ڈاکٹر راہی فدائی کی گراں قدر تصنیف “جنوب کے اصحابِ کمال” کی جلد پنجم “ثوابت” کی پُروقار رسمِ رونمائی ہندوستانی اردو منچ کے “ہم سینٹر” نزد شفا ہاسپٹل، کوئنس روڈ، بنگلور میں منعقد ہوئی، جس میں علمی، ادبی اور سماجی حلقوں سے وابستہ ممتاز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
بنگلور: معروف عالمِ دین، ادیب، شاعر اور محقق ڈاکٹر راہی فدائی کی گراں قدر تصنیف “جنوب کے اصحابِ کمال” کی جلد پنجم “ثوابت” کی پُروقار رسمِ رونمائی ہندوستانی اردو منچ کے “ہم سینٹر” نزد شفا ہاسپٹل، کوئنس روڈ، بنگلور میں منعقد ہوئی، جس میں علمی، ادبی اور سماجی حلقوں سے وابستہ ممتاز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب کی صدارت معروف ادبی شخصیت جناب ماہر منصور نے کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر راہی فدائی نے کہا کہ معاشرے کی حقیقی ترقی کے لیے صرف روایات کا سہارا کافی نہیں بلکہ وقت کے تقاضوں کے مطابق روایت میں مثبت اور تعمیری تبدیلی ناگزیر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد روایات سے بغاوت نہیں بلکہ ان میں نئی روح اور معنویت پیدا کرنا ہے۔
ڈاکٹر راہی فدائی نے کہا کہ جنوبی ہند کی علمی، ادبی اور سماجی شخصیات کی خدمات کو محفوظ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور “جنوب کے اصحابِ کمال” اسی تحقیقی و تاریخی مقصد کی ایک اہم کڑی ہے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی، رکن اردو اکادمی اور معروف کالم نگار جناب محمد اعظم شاہد نے کتاب پر تفصیلی تبصرہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر راہی فدائی کی یہ تصنیف جنوبی ہند کی علمی و ادبی تاریخ کو محفوظ کرنے کی ایک سنجیدہ اور مستند کوشش ہے، جو مستقبل کے محققین کے لیے اہم حوالہ ثابت ہوگی۔
جناب عبداللہ نادر عمری نے مصنف اور کتاب پر ایک مؤثر قلمی خاکہ پیش کیا جسے حاضرین نے بے حد پسند کیا۔ کتاب کی رسمِ اجرا پروفیسر سید سجاد حسین، جناب اقبال احمد بیگ اور صدرِ محفل جناب ماہر منصور کے ہاتھوں انجام پائی۔
مقررین نے ڈاکٹر راہی فدائی کی علمی، تحقیقی اور ادبی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ ہندوستانی اردو منچ کے صدر جناب اعجاز علی جوہری نے نوجوان نسل کو اردو زبان و ادب سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اردو کا مستقبل نئی نسل کے ہاتھوں میں محفوظ ہے۔
تقریب کے کنوینئر جناب جمیل احمد ملنسار نے مہمانوں کا استقبال کیا جبکہ معروف صوفی شاعر جناب منیر احمد جامی نے نظامت کے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
رسمِ رونمائی کے بعد ایک مشاعرے کا بھی انعقاد عمل میں آیا، جس میں جناب ماہر منصور، انور ترپتوری، غفران امجد، انور عزیز، سردار دانش، ڈاکٹر ارشد جمال اور منیر احمد جامی نے اپنا منتخب کلام پیش کر کے سامعین سے بھرپور داد حاصل کی۔
آخر میں ہندوستانی اردو منچ کے سکریٹری جناب این۔ ڈی۔ ملا نے شکریہ ادا کیا، جس کے ساتھ تقریب اختتام پذیر ہوئی۔