تلنگانہ

ڈاکٹر کے سرٹیفکیٹ کے بغیر جانور فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے: مولانا جعفر پاشاہ

امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانور لانے والے قریش برادری کے افراد اور خریداروں کو ہراساں کرنے کے بجائے حکومت اور پولیس کو چاہئے کہ وہ ڈاکٹر کے سرٹیفکیٹ کے بغیر جانور فروخت کرنے والے بیوپاریوں کے خلاف کارروائی کرے۔

حیدرآباد: امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ و آندھرا پردیش حضرت مولانا محمد حسام الدین ثانی عاقل جعفر پاشاہ نے کہا ہے کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانور لانے والے قریش برادری کے افراد اور خریداروں کو ہراساں کرنے کے بجائے حکومت اور پولیس کو چاہئے کہ وہ ڈاکٹر کے سرٹیفکیٹ کے بغیر جانور فروخت کرنے والے بیوپاریوں کے خلاف کارروائی کرے۔

متعلقہ خبریں
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر
نیشنل اوورسیز اسکالرشپ: گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے طلبہ کے عالمی تعلیمی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات

جامع مسجد دارالشفاء میں نماز جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے مولانا جعفر پاشاہ نے عازمین حج کو مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے حجِ مبرور کی دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ آج ایسے حالات ہیں کہ صاحبِ استطاعت لوگ گھروں میں پریشان ہیں جبکہ حاجی حضرات اللہ کے گھر کی حاضری کے سفر میں ہیں۔ انہوں نے حدیث شریف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود حج ادا نہ کرے، اس کے لیے سخت وعید آئی ہے۔

مولانا نے عیدالاضحیٰ سے قبل مویشی لانے والوں کو پیش آنے والی مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی تبدیلی کے بعد مسلمانوں کو امن و امان کی بہتر صورتحال کی امید تھی، لیکن کانگریس حکومت کے دور میں بھی اقلیتیں مایوسی محسوس کر رہی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جہاں جانور فروخت کیے جا رہے ہیں، وہیں پولیس چیک پوسٹ قائم کیے جائیں اور بیوپاریوں کو پابند بنایا جائے کہ وہ جانوروں کے ساتھ ڈاکٹر کا سرٹیفکیٹ رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بیوپاری سرٹیفکیٹ کے بغیر جانور فروخت کرے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، نہ کہ جانور خریدنے والوں کو نشانہ بنایا جائے۔

مولانا جعفر پاشاہ نے گاؤ رکھشکوں کے نام پر سرگرم عناصر پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب پولیس اور سرکاری چیک پوسٹ موجود ہیں تو پھر گاؤ رکھشکوں کی ضرورت کیا ہے؟ انہوں نے کمشنر پولیس اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ گاؤ رکھشکوں کے نام پر جاری تمام شناختی کارڈ منسوخ کیے جائیں اور ان افراد کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے جانوروں کو زبردستی گاڑیوں سے اتار کر جنگلات میں چھوڑ دیتے ہیں، جبکہ پولیس خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے کے بعد ان کے مسائل سے بے توجہی اختیار کر لیتی ہیں۔

مولانا نے چیف منسٹر، جو وزارت داخلہ کا قلمدان بھی رکھتے ہیں، سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلہ میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے لاقانونیت کے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

اپنے خطاب میں انہوں نے شادی بیاہ کی تقریبات میں بڑھتی ہوئی غیر اسلامی رسومات اور خرافات پر بھی افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شادیوں میں گانا بجانا، آتش بازی اور نمازوں سے غفلت جیسے اعمال باعثِ تشویش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی تقریبات میں اللہ کی رحمت کے بجائے ناراضگی کا اندیشہ ہوتا ہے۔

آخر میں مولانا جعفر پاشاہ نے قربانی کرنے والے مرد و خواتین کو تلقین کی کہ وہ ذی الحجہ کی 29 تاریخ، اتوار 17 مئی 2026ء کو مغرب سے قبل اپنے بال اور ناخن تراش لیں تاکہ سنت پر عمل کرتے ہوئے اجر و ثواب حاصل کیا جا سکے۔