تلنگانہ

اپوزیشن کسانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہے، ریاست میں منظم انداز میں دھان کی خریدی جاری: کانگریس قائدین

کانگریس قائدین نے الزام عائد کیا کہ بعض اپوزیشن قائدین صرف چند مقامات پر موجود معمولی مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے پورے ریاستی نظام کو ناکام ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر 100 مراکز میں چند مقامات پر مسائل ہوں تو اپوزیشن صرف انہی جگہوں پر کیمرے لے جاکر سیاسی ڈرامہ کررہی ہے، جو افسوسناک عمل ہے۔

ریاست میں دھان خریدی مراکز کے معاملہ پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چلائی جارہی مبینہ گمراہ کن مہم کا جواب دینے کیلئے منگل کے روز سابق چیئرمین زرعی مارکیٹ کمیٹی بنڈی وینو گوپال، سابق زیڈ پی کوآپشن رکن و ضلع کسان کانگریس صدر ایم ڈی غوث نے اپیریڈی پلی سنٹر اور مختلف سب سنٹرس کا دورہ کرتے ہوئے خریدی مراکز کا معائنہ کیا۔

متعلقہ خبریں
ملک میں 11 سیاسی جماعتیں، غیرجانبدار
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر
نیشنل اوورسیز اسکالرشپ: گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے طلبہ کے عالمی تعلیمی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ موجودہ کانگریس حکومت میں گزشتہ حکومت کے مقابلہ زیادہ بہتر، شفاف اور منظم انداز میں دھان کی خریدی جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست بھر میں اب تک 8575 خریدی مراکز قائم کئے گئے ہیں جبکہ کسانوں کے کھاتوں میں 210 کروڑ روپے منتقل کئے جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے بے موسم بارشوں کے خدشات کو پیش نظر رکھتے ہوئے پہلے ہی 2.63 لاکھ ترپال اور 18.75 کروڑ گنی بیاگس فراہم کرتے ہوئے خریدی عمل کا آغاز کیا تھا تاکہ کسانوں کو کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے۔

کانگریس قائدین نے الزام عائد کیا کہ بعض اپوزیشن قائدین صرف چند مقامات پر موجود معمولی مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہوئے پورے ریاستی نظام کو ناکام ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر 100 مراکز میں چند مقامات پر مسائل ہوں تو اپوزیشن صرف انہی جگہوں پر کیمرے لے جاکر سیاسی ڈرامہ کررہی ہے، جو افسوسناک عمل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض عناصر کسانوں کو حکومت کی جانب سے فراہم کی جارہی امدادی قیمت سے دور کرتے ہوئے دلالوں اور کمیشن ایجنٹوں کی طرف دھکیلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن کسان ہمیشہ باقی رہتا ہے، اس لئے سیاسی فائدے کیلئے کسانوں کو گمراہ نہیں کرنا چاہئے۔

قائدین نے کہا کہ اگر کہیں خامیاں موجود ہیں تو ان کی نشاندہی کی جائے تاکہ حکومت فوری اصلاحی اقدامات کرسکے، لیکن جھوٹی مہم چلاکر کسانوں کو نقصان پہنچانا مناسب نہیں۔ انہوں نے کانگریس کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ حکومت کی جانب سے کسانوں کیلئے کئے جارہے اقدامات کو عوام تک پہنچائیں اور خریدی مراکز پر نظر رکھتے ہوئے خریدی عمل کو تیز رفتار بنانے میں تعاون کریں۔

اس پروگرام میں ضلع یوتھ کانگریس نائب صدر کورووا منوج، شِوَنّا سینا کے بنڈی آنند منی اور وویک ریڈی بھی موجود تھے۔