حیدرآباد

منظورہ خواتین تحفظات بل ”آوٹ ڈیٹیڈ چیک“ کے مماثل: کویتا

کویتا نے کہا کہ مجلس اور بی آر ایس دوستانہ جماعتیں ہیں۔ دونوں کے درمیان کبھی انتخابی اتحاد نہیں رہا۔ مجلس کو اپنے نظریات رکھنے کا پورا حق ہے۔ اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ مجلس کی مخالفت بل کو منظور کرنے میں رکاوٹ نہیں بنی۔

حیدرآباد: بی آر ایس رکن کونسل کے کویتا نے مرکزی حکومت سے خواتین تحفظات بل پر فوری عمل کرنے کا مطالبہ کیا۔آج یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں منظورہ خواتین تحفظات بل Post dated Cheque کی طرح ہے۔

متعلقہ خبریں
نیٹ امتحان پر برہمی کی گونج پارلیمنٹ میں سنائی دے گی: کانگریس
سی آئی ایس ایف کا 3300 رکنی دستہ آج سے پارلیمنٹ سیکوریٹی سنبھال لے گا
کویتی پارلیمنٹ تحلیل
بی جے پی کے جئے سری رام کے نعرہ سے نفرت جھلکتی ہے: گورو گوگوئی
عوام میں کے سی آر کی عزت ہنوز برقرار: کے ٹی آر

کسی کو بھی معلوم نہیں ہے کہ اس بل پر کب سے عمل کیا جائے گا انہوں نے مرکزی حکومت پر بل پر عمل کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود عمل نہ کرنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی خواتین کو واضح پیغام ہے کہ پارلیمنٹ میں منظورہ خواتین تحفظات بل کی حیثیتPost dated Cheque کے سواء کچھ نہیں ہے۔

چیک پر رقم تحریر کردی گئی مگر بتایا ہیں گیا ہے کہ رقم کو کب بینک سے نکال سکتے ہیں۔ اس ساری مشق کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ یہ سب دکھاوئے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے باوجود بل کو منظور کیا جانا ہمارے لئے اچھی علامت ہے۔ اور اس پر جشن منایا جانا چاہئے۔

او بی سی خواتین کو تحفظات فراہم کرنے کے متعلق مطالبہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ او بی سی خواتین کو بھی مقننہ میں تحفظات ملنا چاہئے۔ اس سوال پر کہ کیا وہ بی آر ایس قیادت پر خواتین کو مناسب نمائندگی فراہم کرنے راضی کریں گے۔

 کویتا نے یعنی میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بار رکن پارلیمنٹ اور رکن کونسل کیلئے منتخب ہوئی ہیں وہ ایک چھوٹی لیڈر ہیں۔ میری دانست میں کوئی بھی پارٹی قیادت کو قائل نہیں کرسکتا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اندرا گاندھی،پارٹی میں اہم آواز نہیں تھیں۔

کیا سونیا گاندھی پارٹی کی اکیلی آواز نہیں ہیں؟۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ خواتین سے شروع ہو کر ہم تمام کمزور لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے پالیسی بنانے کی ضرورت ہے۔ چاہے وہ اعلیٰ ذات، اوبی سی، دلت خواتین ہی کیوں نہ ہو خواتین کو تحفظ فراہم کیا جانا چاہئے۔

 بی جے پی کی جانب سے بی آر ایس کی مجلس سے دوستی پر سوال اٹھانے جبکہ مجلس ایسی واحد جماعت تھی جس نے خواتین تحفظات بل کی مخالفت کی تھی، کویتا نے کہا کہ مجلس اور بی آر ایس دوستانہ جماعتیں ہیں۔ دونوں کے درمیان کبھی انتخابی اتحاد نہیں رہا۔ مجلس کو اپنے نظریات رکھنے کا پورا حق ہے۔

اس بات کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ مجلس کی مخالفت بل کو منظور کرنے میں رکاوٹ نہیں بنی۔ ریاست میں کانگریس کی بڑھتی مقبولیت کے متعلق کویتا نے کہاک ہ انہیں یقین ہے کہ ریاست کے عوام بی آر ایس پر پھر ایک بار اعتماد ظاہر کریں گے۔ جس تیز رفتاری سے بی آر ایس نے ریاست کو ترقی پر گامزن کیا ہے۔ قوی امکان ہے کہ ہم مسلسل تیسری معیاد کیلئے حکومت بنائیں گے۔

a3w
a3w