شمالی بھارت

حقِ رائے دہی استعمال کرکے جمہوریت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کریں: مولانا سجاد نعمانی

مفسر قرآن اور معروف عالم دین مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی نے کہا ہے کہ لوک سبھا انتخابات کی شروعات 19 اپریل سے شروع ہو رہی ہے۔ یہ الیکشن عام انتخابات کی طرح نہیں بلکہ یہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والا ہے۔

لکھنؤ: مفسر قرآن اور معروف عالم دین مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی نے کہا ہے کہ لوک سبھا انتخابات کی شروعات 19 اپریل سے شروع ہو رہی ہے۔ یہ الیکشن عام انتخابات کی طرح نہیں بلکہ یہ ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرنے والا ہے۔

متعلقہ خبریں
میں نے حکمت عملی کے تحت لوک سبھا الیکشن نہیں لڑا: پرینکا کا انٹرویو (ویڈیو)
مسجد یکمنارہ اکبری گیٹ لکھنؤ میں تذکرۂ شہدائے کرام جلسوں کے اختتام پر جلسۂ اظہار تشکّر کا انعقاد
بہار میں لوک سبھا کے16 امیدواروں کی فہرست کا اعلان، مجاہد عالم شامل
اے پی میں لوک سبھا کے 13حلقوں کیلئے ٹی ڈی پی کی پہلی فہرست جاری
آسام میں مولانا بدرالدین اجمل کی پارٹی کے لوک سبھا امیدواروں کا اعلان

انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان کا ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے میں تمام ہم وطنوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ کا ہر ووٹ بہت قیمتی ہے اور اس کا اثر بہت دور تک پڑےگا۔ اس لیے آپ سب اپنا قیمتی ووٹ ڈالنے کے لیے پولنگ بوتھ تک ضرور جائیں۔

انہوں نے کہا کہ محلے کے ذمہ دار لوگ چھوٹے چھوٹے گروپ بنالیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر 18 سال سے زیادہ عمر کا شخص ووٹ ڈالنے جائیں۔ اس کے لیے ہر گھر میں جا کر ووٹنگ کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ آپ لوگ ووٹ کی اہمیت کو سمجھیں، یہ ملک کے مستقبل کا سوال ہے۔

مولانا نعمانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک ایک سیٹ پر کئی امیدوار ہوتے ہیں۔ ان میں ایسے بھی ہیں جنہیں جیت یا ہار سے کوئی سروکار نہیں بلکہ وہ صرف ووٹ کاٹنا چاہتے ہیں۔ اس لیے اپنے قیمتی ووٹوں کو تقسیم نہ ہونے دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو چند پیسے لے کر ووٹ کاٹنے کا کام کرتے ہیں۔ اس لیے احتیاط کریں کہ آپ کا ووٹ تقسیم نہ ہو۔

مولانا سجاد نعمانی نے کہا کہ نفرت پھیلانے اور معاشرے کو تقسیم کرنے والی جماعت سے تعلق رکھنے والے امیدوار کو اپنے ووٹ کی طاقت سے روکیں۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ کون سا امیدوار جیت رہا ہے، چاہے آپ اسے ذاتی طور پر پسند نہ کریں۔ ہمیں اور آپ کو اپنی پسند اور ناپسند سے اوپر اٹھ کر دیکھنا چاہیے کہ ہمارے ملک کے لیے بہتر کیا ہے۔ ذاتی فائدے سے زیادہ ملک کی فلاح و بہبود ضروری ہے۔

مولانا نے زور دے کر کہا کہ ہر بھارتی شہری کو صد فیصد حق رائے دہی استعمال کریں تاکہ ملک فرقہ پرست طاقتوں کے ہاتھ میں نہ جانے پائے۔ آپ کا ووٹ ملک کی ترقی، محبت، ہم آہنگی اور معاشرے میں اعتماد کے لیے ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ اپیل وطن عزیز کی محبت میں کر رہا ہوں، مجھے امید ہے کہ آپ سب ملک میں امن اور بھائی چارے کو برقرار رکھنے کے لیے اپنا اہم کردار ضرور ادا کریں گے۔