شمالی بھارت

بہار میں طلبہ پر AK-47 سے فائرنگ کرنے والا پولیس کانسٹبل معطل

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مختلف اضلاع میں طلبہ بڑے پیمانے پر احتجاج کر رہے تھے۔ احتجاج کے دوران ایک پولیس کانسٹیبل نے اپنی سرکاری AK-47 سے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

پٹنہ: بہار کے ضلع سیوان میں 25 جولائی کو "بہار بند” کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ بہار پولیس ہیڈکوارٹر نے مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر AK-47 رائفل سے فائرنگ کرنے والے پولیس کانسٹیبل کو فوری طور پر معطل کر دیا ہے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مختلف اضلاع میں طلبہ بڑے پیمانے پر احتجاج کر رہے تھے۔ احتجاج کے دوران ایک پولیس کانسٹیبل نے اپنی سرکاری AK-47 سے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

زخمیوں میں 15 سالہ عارف بھی شامل ہے، جو دکان سے واپس گھر جا رہا تھا۔ فائرنگ کے دوران گولی اس کی گردن میں لگی۔ بعد ازاں پٹنہ کے جے پرکاش میدانتا اسپتال میں ڈاکٹروں نے کامیاب سرجری کے ذریعے گولی نکال دی۔ فائرنگ میں زخمی ہونے والے تین طلبہ اس وقت بھی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

بہار اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف تیجسوی یادو نے اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے پولیس کارروائی پر سخت سوالات اٹھائے۔

ادھر لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے بھی اس واقعے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پیلٹ گنز استعمال کی گئیں، جبکہ بہار میں مظاہرین پر AK-47 سے فائرنگ کی گئی، جو انتہائی تشویش ناک ہے۔

واقعے کے بعد بہار پولیس نے کانسٹیبل کو معطل کر دیا ہے، جبکہ فائرنگ کے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔