پروفیسر مسعود احمد کے شعری مجموعہ "لمعات مسعود” کی شاندار رسمِ اجرا، جرمن ترجمہ قابلِ تحسین قرار
سابق آئی پی ایس اور سابق ڈی جی پی آندھرا پردیش جناب سید انوار الہدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو شاعری کا جرمن زبان میں ترجمہ ہونا ایک بڑا ادبی کارنامہ ہے، جو بین الاقوامی سطح پر اردو زبان کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں اردو زبان و ادب فروغ پا رہا ہے اور ایسے میں اس نوعیت کی کاوشیں نہایت اہم ہیں۔
حیدرآباد: ممتاز شاعر، ادیب اور رینوا بی بی کینسر ہاسپٹل کے چیف آپریٹنگ آفیسر پروفیسر محمد مسعود احمد کی دسویں تصنیف "لمعات مسعود” کی رسمِ اجرا ایک باوقار تقریب میں انجام پائی، جس میں علمی و ادبی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ایس اے شکور، ڈائریکٹر دائرۃ المعارف، نے کہا کہ پروفیسر مسعود احمد کی شاعری زندگی کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے اور ان میں تخلیقی صلاحیتوں کے ساتھ جذبات و احساسات کے اظہار کا بہترین سلیقہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں تصنیف و اشاعت ایک مشکل مرحلہ ہے، تاہم پروفیسر مسعود احمد کی ادبی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔
انہوں نے اس بات پر خصوصی مسرت کا اظہار کیا کہ اس شعری مجموعہ کا جرمن زبان میں ترجمہ ڈاکٹر ارشاد بلخی نے کیا ہے۔ ان کے مطابق، شاعری کا ترجمہ ایک نہایت دشوار مرحلہ ہوتا ہے، لیکن مترجم نے اصل روح اور مزاج کو برقرار رکھتے ہوئے بہترین کام انجام دیا ہے۔
سابق آئی پی ایس اور سابق ڈی جی پی آندھرا پردیش جناب سید انوار الہدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اردو شاعری کا جرمن زبان میں ترجمہ ہونا ایک بڑا ادبی کارنامہ ہے، جو بین الاقوامی سطح پر اردو زبان کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یورپ میں اردو زبان و ادب فروغ پا رہا ہے اور ایسے میں اس نوعیت کی کاوشیں نہایت اہم ہیں۔
ڈاکٹر ارشاد بلخی نے اپنے خطاب میں کہا کہ "لمعات مسعود” کا جرمن ترجمہ ہندوستان اور جرمنی کے درمیان ادبی و ثقافتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے اس کامیابی کو اپنے والدین کی دعاؤں کا نتیجہ قرار دیا اور سامعین کو جرمن زبان میں اشعار سنا کر داد وصول کی۔
مصنف پروفیسر مسعود احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ انہوں نے اس کتاب کو عالمی تناظر میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ مختلف تہذیبوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے اپنے اساتذہ اور رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا اور اپنی آئندہ گیارہویں کتاب کی اشاعت کا بھی اعلان کیا۔
تقریب میں دیگر مقررین نے بھی پروفیسر مسعود احمد کی ادبی خدمات کو سراہا اور انہیں مبارکباد پیش کی۔ اس موقع پر معروف گلوکار عدنان سالم نے ان کے کلام کو ترنم کے ساتھ پیش کیا، جبکہ ایک مشاعرہ بھی منعقد ہوا جس میں نامور شعراء نے شرکت کی۔
تقریب کے اختتام پر مہمانوں کی شال پوشی کی گئی اور شکریہ کی ادائیگی کے ساتھ یہ ادبی نشست اختتام پذیر ہوئی۔