حیدرآباد

راجہ سنگھ کی شکست ممکن ہے اگر مسلم ووٹ تقسیم نہ ہوں

انتخابات میں ہر حلقہ کے نتائج اہمیت کے حامل ہوتے ہیں مگر چند حلقے ہی ایسے ہوتے ہیں جن پر دیگر حلقوں کے رائے دہندوں کی بھی نظریں ٹکی ہوئی ہوتی ہیں۔

حیدرآباد: انتخابات میں ہر حلقہ کے نتائج اہمیت کے حامل ہوتے ہیں مگر چند حلقے ہی ایسے ہوتے ہیں جن پر دیگر حلقوں کے رائے دہندوں کی بھی نظریں ٹکی ہوئی ہوتی ہیں۔

متعلقہ خبریں
ریونت ریڈی حکومت نے تاحال 18100کروڑ کاقرض لیا
پرجا پالانا کے انتظامات پر راجہ سنگھ کا عدم اطمینان
مسلمانوں کا اتحاد بکھیرنے فسطائی طاقتیں سرگرم، چوکنا رہنے کی اپیل : اکبرالدین اویسی
راجہ سنگھ کو حلقہ لوک سبھا ظہیرآباد سے الیکشن لڑنے پارٹی کا مشورہ
الیکشن کمیشن کی ہدایت پر ڈی آئی جی اننت پور رینج کا تبادلہ

گوشہ محل بھی ایک ایسا حلقہ ہے جہاں کے نتائج کا بہت سے لوگوں کو بے چینی سے انتظار رہے گا۔ حیدرآبا ہی نہیں بلکہ تلنگانہ کے مسلمان اس بارنتائج کے بارے میں بہت زیادہ متفکر نظر آتے ہیں اور ان کی یہ دلی خواہش بھی ہے کہ اس حلقہ سے راجہ سنگھ کو شکست کا منہ دیکھنا نصیب ہو۔

شائد اس مرتبہ راجہ سنگھ کو شکست کا سامنا بھی ہوجائے۔ یہ اس لئے ناممکن بھی نظر نہیں آتا کہ اس حلقہ کے مسلم رائے دہندوں میں پہلے کے مقابل بہت زیادہ جوش و خروش پایا جاتا ہے۔

اگر مسلم ووٹ منقسم نہ ہوں اوروہ راجہ سنگھ جو مسلمانوں کے تعلق سے زہر افشانی ہی کیا کرتا تھا مگر اب اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بھی گستاخیاں بھی شروع کردی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے دل بہت زیادہ مغموم ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ اس حلقہ کے تعلق سے عام مسلمان ہی نہیں بلکہ ہمارے عمائدین بھی نہ صرف فکرمند ہیں بلکہ بی جے پی کے امیدوار کو شکست سے دوچار کرنے کے لئے مسلم ووٹوں کو تقسیم سے بچانے کی سعی میں لگے ہوئے ہیں۔

اس مرتبہ ایک عجیب صورت حال یہ پیدا ہوگئی ہے کہ ایک مخصوص گوشہ کی جانب سے یہ استفسارکرتے ہوئے کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مجلس اتحاد المسلمین اپنا امیدوار میدان میں کیوں نہیں اتارا‘ یہ باور کروانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ مجلس ایسا کرتے ہوئے درپردہ راجہ سنگھ کی مدد کررہی ہے۔ کیا واقعی ایسا ممکن ہے۔ اس حلقہ میں مسلم رائے دہندوں کا تناسب صرف 28% ہے۔

اگر ہم گزشتہ انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں میں پارٹیوں کے حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب کے اعتبار سے تجزیہ کریں پتا چلے گا کہ اگر مجلس کے حق میں مسلم رائے دہندے یک قطبی رائے دہی بھی کریں تو اس کو اکثریتی رائے دہندوں کی تقسیم کا فائدہ حاصل نہیں ہوگا چونکہ بی جے پی نے 45.4%‘ ٹی آر ایس نے 32.4% اور کانگریس نے 19.3% ووٹ حاصل کئے تھے۔ اس لئے یہ باور کروانا کہ مجلس کی کامیابی کے امکانات پائے جاتے ہیں سوائے فریب کے کچھ نہیں ہے۔

اس پروپگنڈہ کا جواب دیتے ہوئے صدر مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اویسی نے کہا کہ وہ نظام آباد اربن سے اپنا امیدوار نہیں ٹھہرائے جہاں مسلم ووٹرس کا تناسب تقریباً40 فیصد ہے تو پھر وہ کیو ں کر گوشہ محل سے اپنا امیدوار ٹھہرائیں جہاں صرف 28% مسلم رائے دہندے پائے جاتے ہیں۔ اس حلقہ میں رائے دہی کے رجحان کے تعلق سے اعدادو شمار پیش کئے جاتے ہیں اور اس حلقہ کے مسلم رائے دہندوں کی آراء بھی پیش کی جاتی ہے۔

گوشہ محل جو کبھی مہاراج گنج حلقہ کہلایا جاتا تھا‘ آندھرا پردیش کا سب سے چھوٹا حلقہ تھا اور یہ حلقہ جو حیدرآباد پارلیمانی حلقہ میں آتا ہے ایک عرصہ سے فرقہ وارانہ اعتبار سے بہت ہی حساس رہا ہے۔ حیدرآباد پارلیمانی حلقہ کا یہ واحد اسمبلی حلقہ ہے جس کی نمائندگی گزشتہ دو میعاد سے مسلسل بی جے پی کرتی آرہی ہے۔

راجہ سنگھ نے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز تلگو دیشم پارٹی سے کیا تھا اور وہ پہلی مرتبہ انتخابی سیاست میں حصہ لیتے ہوئے 2009 ء میں منگل ہاٹ ڈیویژن سے حیدرآباد بلدیہ کے لئے منتخب ہوا تھا۔ بعدازاں وہ 2014 ء کے اسمبلی انتخابات سے قبل بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی اور کانگریس پارٹی کے سینئر قائد و سابق وزیر مکیش گوڑ کو 46,793 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے شکست دی۔

راجہ سنگھ نے 2014 ء میں 92,757 (58.9%) حاصل کئے تھے جب کہ ان کے قریبی حریف مکیش گوڑ کو 45,964 (29.2%) ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس وقت تلنگانہ راشٹرا سمیتی کے امیدوار پریم کمار دھوت کو صرف 6,312 ووٹ حاصل ہوئے تھے جب کہ ان سے زیادہ ووٹ ایک آزاد امیدوار نند کشور ویاس نے حاصل کئے تھے جنہیں 7,123 ووٹ حاصل ہوئے تھے تاہم ٹی آر ایس نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد اس حلقہ پر اپنی توجہ مرکوز کی اور 2018 ء کے اسمبلی انتخابات میں پریم سنگھ راتھوڑ کو اپنے امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا۔

اس مرتبہ راجہ سنگھ کی مقبولیت میں زبردست گراوٹ آئی اور وہ 61,854 (45.4%) ووٹ ہی حاصل کئے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سابقہ انتخابات سے انہیں 30,903 ووٹ کم حاصل ہوئے۔ پریم سنگھ راتھوڑ نے 44,120 (32.4%) ووٹ حاصل کئے۔ بی آ ر ایس نے 2014 میں حاصل 6,312 ووٹ سے چھلانگ مارکر 61,854 ووٹ حاصل کئے یعنی اس کے ووٹ بینک میں تقریباً37,808 ووٹوں کا اضافہ ہوا۔

راجہ سنگھ کو شائد شکست بھی ہوجاتی اگر انتخابی میدان میں کانگریس کے امیدوار ایم مکیش گوڑ نہیں ہوتے جنہیں 26,322 ووٹ حاصل ہوئے۔ اس مرتبہ نند کشور ویاس بلال کو میدان میں اتارا ہے جو ہندو اور مسلم رائے دہندوں میں یکساں مقبول سمجھے جاتے ہیں۔ مقامی رائے دہندوں کا کہنا ہے کہ اس حلقہ میں کانگریس نے اپنی گرفت کھودی ہے اس کے برخلاف راجہ سنگھ کو صرف بی آر ایس ہی شکست دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

محمد ابوالعارف کا کہنا ہے کہ کانگریس اس حلقہ سے کامیابی کی سنجیدہ کوشش نہیں کررہی ہے۔ خاتون امیدوار اپنے طور پر کوشش کررہی ہے مگر ایسا لگتا ہے کہ انہیں پارٹی کی طرف سے خاطرخواہ تعاون حاصل نہیں ہورہا ہے‘ کیوں کہ اس حلقہ میں انتخابی مہم بہت ہی سست ہے۔ اس کے برخلاف بی آر ایس‘اس حلقہ سے سنجیدہ مقابلہ کررہی ہے‘ اب تک کے ٹی راما راؤ کے دو روڈ شوز ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 9 برس میں ایک مرتبہ بھی راجہ سنگھ نے درگاہ حضرات یوسفینؒ کے علاقہ کا دورہ کیا اور نہ ہی یہاں کے مکینوں کے مسائل جاننے کی کوشش کی ہے۔ آغاپورہ کے محمد حنیف اور نامپلی کے محمد احمد کا کہنا ہے کہ راجہ سنگھ کو صرف بی آر ایس ہی سبق سکھا سکتی ہے۔ بی آر ایس کے علاوہ کوئی اور پارٹی ہوتی تو اس کو جیل بھیجے جانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔