حیدرآباد

مسلمانوں کا اتحاد بکھیرنے فسطائی طاقتیں سرگرم، چوکنا رہنے کی اپیل : اکبرالدین اویسی

مسلمانوں کا اتحاد بکھیرنے فسطائی طاقتیں سرگرم، چوکنا رہنے کی اپیل : اکبرالدین اویسی

حیدرآباد: بیرسٹر اسدالدین اویسی صدر کل ہند مجلس اتحادالمسلمین و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نے کہا ہے کہ مجلس نے تلنگانہ میں جو سیاسی حکمت عملی اختیار کی ہے اللہ اس کی لاج رکھے گا۔

متعلقہ خبریں
حیدرآباد میں پولیس کی جانب سے ہوٹلوں کو رات 11 بجے بند کروانے کی شکایت : احمد بلعلہ
مجلس کو ختم کرنے کا الزام: اکبر الدین اویسی
اڈوانی کو تشدد میں ہلاک ہونے والے ہندوستانیوں کی قبروں کے سہارے ایوارڈ کا حصول: اویسی
جعلی کرنسی کی طباعت اور چلن کوعام کرنے پر 2افرادگرفتار
ہٹ اینڈ رن کیس، 5 گرفتار

30نومبر کو ریاست کے عوام اچھا فیصلہ کریں گے۔ مجلس کے موجودہ 7 ارکان اسمبلی انشاء اللہ ضرور کامیاب ہوں گے۔ اس کے علاوہ جوبلی ہلز اور راجندرنگر میں بھی مجلس کے امیدوار مخالف امیدواروں کو بولڈ کرکے کامیابی حاصل کریں گے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی متحد ہوکر مجلس کی مخالفت کررہے ہیں۔

ان حالات میں فسطائی طاقتوں کو روکنے مودی اور راہول کو شکست دیں۔ بیرسٹر اسدالدین اویسی ایم پی و صدرمجلس نے آج خلوت میں کل ہند مجلس اتحادالمسلمین کے 9 امیدواروں کی تائید میں انتخابات کے منعقدہ آخری مرکزی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔

اس جلسہ میں جناب اکبرالدین اویسی قائد مجلس و امیدوار حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ، جناب سید احمد پاشاہ قادری معتمد عمومی مجلس و رکن اسمبلی یاقوت پورہ، جناب سید امتیاز جلیل مجلسی رکن پارلیمنٹ اورنگ آباد، جناب اخترالایمان رکن اسمبلی و صدرمجلس بہار کے علاوہ مہاراشٹرا مجلس کے ذمہ داران اور مجلس کے امیدوار بھی موجود تھے جب کہ سامعین میں بھاری تعداد میں محبان مجلس شریک تھے۔

بیرسٹر اویسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کانگریس کے راہول گاندھی نے تلنگانہ میں تقریباً 3، 4 دن تک انتخابی مہم میں شرکت کی۔ آج انہوں نے نامپلی میں جلسہ عام سے بھی خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے تقریباً 6 مرتبہ مجلس اور اویسی کا نام لیا لیکن انہیں اس بات کی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ نامپلی سے متصل گوشہ محل میں اپنے امیدوار کی تائید میں انتخابی مہم چلائیں۔

گوشہ محل میں راہول گاندھی کی بہن پرینکا گاندھی اور پردیش کانگریس کے صدر آر ایس ایس انا بھی نہیں گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس، بی جے پی کی کامیابی کے لئے کئی حلقوں میں کام کررہی ہے۔بیرسٹر اویسی کی مجلس کے تمام امیدواروں کی کامیابی کے لئے دعا پر ان کے خطاب کا اختتام عمل میں آیا۔

قبل ازیں جناب اکبرالدین اویسی قائد مجلس مقننہ پارٹی نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں کہا کہ موجودہ اسمبلی انتخابات میں حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے متحد و منظم ہونے کی ضرورت ہے۔ مجلس کی طاقت، عوام کی طاقت اور مجلس کی کمزوری، عوام کی کمزوری ہوگی۔ اتحاد کا شیرازہ بکھرجائے تو بہت بڑا نقصان ہوگا۔ وہ اتحاد جو تین نسلوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد مضبوط ہوا ہے اس میں مزید استحکام ضروری ہے۔

قائد مجلس نے کہا کہ اس دوران میں ہم انسان ہیں، انسان سے بھی غلطیاں ہوئی ہوں گے۔ وزیراعظم نریندر مودی یہ کہتے ہیں کہ پہاڑی شریف میں آئی ٹی ٹاور قائم ہوگا تو یہ اقلیتوں کے ساتھ خوشنودی کی جارہی ہے جب کہ آئی ٹی ہب الکٹرانک سٹی قائم ہوگی تو اس سے مسلمان ہی نہیں ہندو، سکھ اور عیسائی بھی استفادہ کریں گے۔ پرانا شہر میں تعلیم، صحت اور کھیل کے ادارے قائم ہوں تو اسے خوشنودی کہا جارہا ہے۔

جناب اکبراویسی نے کہا کہ لوگ کبھی مجلس کو پل کے اس پار کی جماعت کہتے تھے، آج مجلس ملک بھر میں ایک امید اور طاقت بن گئی ہے تو آج اس طاقت پر الزامات لگاکر اسے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھی الزامات لگائے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ مجلس کی موثر قیادت کا یہ نتیجہ ہے کہ سی اے اے کے قانون کو متعارف کرنے کے بعد ملک بھر میں جہاں احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور بعض جگہ پر گولیاں چلائی گئیں لیکن تلنگانہ میں اس قانون کے خلاف قرارداد منظور کی گئی۔

جناب اخترالایمان رکن اسمبلی و صدر مجلس بہار نے کہا کہ ملک بھر میں بدامنی سے جہاں ملک کی ترقی متاثر ہوئی ہے وہیں پر تلنگانہ میں امن کے استحکام کی وجہ سے یہاں پر سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا اور دنیا بھر کی کمپنیاں یہاں پر اپنے یونٹس قائم کررہی ہیں۔ ریاست میں امن کے قیام میں مجلس کا اپنا اہم رول ہے۔ انہوں نے کہا کہ راجستھان میں 2008ء میں ایک بم دھماکے میں بے قصوروں کو پکڑا گیا۔ ذیلی عدالت نے انہیں سزا سنادی۔

اس کے خلاف اعلی عدالت میں اپیل کی گئی تو عدالت نے انہیں رہا کردیا۔ اس کے خلاف کانگریس حکومت نے اپیل کی۔ کانگریس کا یہ اصلی چہرہ ہے کہ اس نے اپنے وقت کے ایک بہترین عالم دین کو تین طلاق کے قانون پر اظہارخیال کا موقع نہیں دیا۔ جناب اخترالایمان نے کہا کہ حیدرآباد میں اب تک 7 ستارے چمک رہے تھے۔ اب نورتن سامنے آئیں گے۔ جناب وارث پٹھان سابق رکن اسمبلی مجلس ممبئی و قومی ترجمان نے کہا کہ مجلس کے 9 امیدوار 119 پر بھاری ہیں۔

اس جلسہ سے مجلسی امیدوار حلقہ اسمبلی بہادر پورہ جناب محمد مبین، مجلسی رکن کونسل جناب مرزا رحمت بیگ قادری، مجلسی کارپوریٹر پتھرگٹی جناب سید سہیل قادری، سرگرم مجلسی کارکن جناب سرفراز عالم نے بھی خطاب کیا۔

شہ نشین پر مجلسی امیدوارحلقہ اسمبلی چارمینا ر جناب میر ذوالفقار علی، مجلسی امیدوار حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ جناب جعفرحسین معراج، مجلسی امیدوار راجندرنگر ایم سوامی یادو، ڈاکٹر نورالدین اویسی، ماسٹر سلطان صلاح الدین اویسی، ڈاکٹرامین الدین اویسی، جناب یاسرعرفات، مجلس کے رکن اسمبلی مالیگاوں مولانا مفتی محمداسمعیل، صدریوتھ مجلس بہار عادل حسن ایڈوکیٹ، بہار مجلس کے جوائنٹ سکریٹری جناب آفتاب انجینئر، جھارکھنڈ مجلس کے صدر جناب شاکر، یوپی مجلس کے قائد جناب گاما،

رکن کونسل تلنگانہ جناب مرزا ریاض الحسن آفندی، سابق رکن کونسل جناب سیدامین الحسن جعفری، جوائنٹ سکریٹری مجلس جناب ایس اے حسین انور کے علاوہ مجلس کے کارپوریٹرس، سرگرم مجلسی کارکنان، مہاراشٹرا اور دیگر علاقوں کے مجلسی قائدین موجود تھے۔ جناب محمدصدیق صدر ابتدائی مجلس گچی چبوترہ نے جلسہ کی کارروائی چلائی اور شکریہ ادا کیا۔