بھارت

نابالغ لڑکیوں کی شادی کے معاملے میں مسلم پرسنل لا بورڈ سے جواب طلب

دوسری جانب پرسنل لاء کے نام پر 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کو شادی کی اجازت دی جارہی ہے اور بیشتر ریاستوں میں عدالتیں بھی انہیں تحفظ فراہم کررہی ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ اس معاملے پر عدالتیں بھی منقسم ہیں۔

نینی تال: اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے مسلم قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی شادی کی اجازت کے خلاف دائر ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے جمعہ کو آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو چار ہفتوں کے اندر جواب دینے کی ہدایت دی ہے۔

متعلقہ خبریں
مسلمان فلسطین اور ملک کے پارلیمانی الیکشن کے لئے دعا کا اہتمام کریں : صدر مسلم پرسنل لاء بورڈ
اسلام کیخلاف سازشیں قدیم طریقہ کار‘ ناامید نہ ہونے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا مشورہ
مدارس اور خانقاہوں کے ذریعہ بورڈ کے پیغام کو عام لوگوں تک پہنچایا جائے گا: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس وپن سانگھی اور جسٹس آلوک کمار ورما کی ڈبل بنچ میں ہوئی۔ یوتھ بار ایسوسی ایشن آف انڈیا کی جانب سے مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ ملک میں پرسنل لاء کے نام پر 18 سال سے کم عمر کی لڑکیوں کی شادیاں کی جا رہی ہیں۔

تحقیق سے یہ بات واضح ہے کہ کم عمری میں لڑکیوں کی شادی زیادہ تر ماں اور بچے کی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ ایسے معاملات میں بچوں کی اموات کی شرح بھی زیادہ دیکھی گئی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کو مرکزی حکومت نے قانونی جرم کا درجہ دیا ہے۔ اس کے خلاف جنسی جرائم سے بچوں کے تحفظ (پوکسو) جیسا سخت قانون بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب پرسنل لاء کے نام پر 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کو شادی کی اجازت دی جارہی ہے اور بیشتر ریاستوں میں عدالتیں بھی انہیں تحفظ فراہم کررہی ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ اس معاملے پر عدالتیں بھی منقسم ہیں۔

عرضی گزار کی جانب سے کرناٹک کی طرح اس معاملے میں بھی سخت قانون بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور ہائی کورٹ کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے اور حکم جاری کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔

a3w
a3w