E20 پیٹرول سے انجن خراب نہیں ہوتا، یہ محض افواہ ہے: راجیہ سبھا میں مرکزی حکومت کی وضاحت
راجیہ سبھا میں دی گئی معلومات کے مطابق گاڑی کی مائلیج صرف پیٹرول میں موجود ایتھانول کی مقدار پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ ڈرائیونگ کا انداز، گاڑی کی دیکھ بھال، ٹائروں میں ہوا کا درست دباؤ، وہیل الائنمنٹ اور ایئر کنڈیشنر کے استعمال جیسے عوامل بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
نئی دہلی: E20 پیٹرول کے استعمال سے گاڑیوں کے انجن خراب ہونے کی خبروں کو مرکزی حکومت نے بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس دعوے کی تائید میں کوئی ثبوت موجود نہیں۔
تاہم حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ صرف E10 پیٹرول کے مطابق تیار کی گئی بعض پرانی گاڑیوں میں مائلیج 3 سے 5 فیصد تک کم ہو سکتی ہے۔
راجیہ سبھا میں دی گئی معلومات کے مطابق گاڑی کی مائلیج صرف پیٹرول میں موجود ایتھانول کی مقدار پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ ڈرائیونگ کا انداز، گاڑی کی دیکھ بھال، ٹائروں میں ہوا کا درست دباؤ، وہیل الائنمنٹ اور ایئر کنڈیشنر کے استعمال جیسے عوامل بھی اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
مرکزی حکومت نے مزید بتایا کہ E20 پیٹرول کے کئی فوائد بھی ہیں۔ اس میں آکٹین ویلیو زیادہ ہونے کی وجہ سے ایندھن بہتر انداز میں جلتا ہے، انجن میں ناکنگ (Knocking) کم ہوتی ہے اور گاڑی کی پِک اَپ اور کارکردگی میں بھی بہتری آتی ہے۔
اس سے قبل مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ نتن گڈکری بھی E20 پیٹرول کے خلاف ہونے والی تنقید کو مسترد کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اب تک ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے یہ ثابت ہو کہ E20 پیٹرول کے استعمال سے کسی بھی گاڑی کا انجن خراب ہوا ہو۔
مرکزی حکومت کا کہنا ہے کہ E20 پیٹرول سے متعلق انجن خراب ہونے کی خبریں محض افواہوں پر مبنی ہیں، جبکہ اس ایندھن کا مقصد ایتھانول کے استعمال کو فروغ دے کر خام تیل پر انحصار کم کرنا، آلودگی میں کمی لانا اور ماحول دوست ایندھن کو فروغ دینا ہے۔