ریونت حکومت پر TIMS اسپتالوں میں ’میڈیکل ٹورازم‘ کا منصوبہ بنانے کا الزام، بی آر ایس کی سخت مخالفت
بی آر ایس کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ کے چندرا شیکھر راؤ کی حکومت نے غریب اور متوسط طبقے کو جدید اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے TIMS اسپتالوں کی تعمیر شروع کی تھی۔ ہر TIMS اسپتال میں 1,000 بستروں اور جدید طبی سہولیات کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
حیدرآباد: بی آر ایس نے تلنگانہ حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (TIMS) کے سرکاری اسپتالوں میں ’میڈیکل ٹورازم‘ کے نام پر امیر افراد کے لیے خصوصی سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
بی آر ایس کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ کے چندرا شیکھر راؤ کی حکومت نے غریب اور متوسط طبقے کو جدید اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرنے کے مقصد سے TIMS اسپتالوں کی تعمیر شروع کی تھی۔ ہر TIMS اسپتال میں 1,000 بستروں اور جدید طبی سہولیات کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔
اپوزیشن پارٹی کا الزام ہے کہ کانگریس حکومت نے ان اسپتالوں کی تعمیر مکمل کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کیا اور اب ان کے آپریشنل ہونے کے مرحلے میں مبینہ طور پر ’میڈیکل ٹورازم‘ کے نام پر ایک نیا منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔
بی آر ایس نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ منصوبے کے تحت ہر TIMS اسپتال میں تقریباً 100 بستروں کو امیر افراد کے لیے مختص کرنے کی تجویز ہے، جہاں زیادہ رقم ادا کرنے والے مریضوں کو علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
بی آر ایس نے سوال اٹھایا کہ جب امیر افراد کے لیے ریاست میں پہلے ہی سینکڑوں نجی اسپتال موجود ہیں تو سرکاری اسپتالوں میں ان کے لیے بستروں کو مختص کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ایسا فیصلہ کیا تو غریب اور متوسط طبقے کے لیے سستے اور معیاری علاج کی دستیابی متاثر ہوسکتی ہے اور TIMS اسپتال قائم کرنے کا بنیادی مقصد بھی متاثر ہوگا۔
بی آر ایس نے ریونت ریڈی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مبینہ ’میڈیکل ٹورازم‘ منصوبے کو فوری طور پر ترک کرے اور TIMS اسپتالوں میں غریب اور متوسط طبقے کے مریضوں کے لیے مناسب طبی سہولیات کو یقینی بنائے۔
تاہم، حکومت کی جانب سے ابھی تک بی آر ایس کے الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے اور نہ ہی مبینہ میڈیکل ٹورازم منصوبے کی تفصیلات کی سرکاری طور پر تصدیق کی گئی ہے۔