تلنگانہ

ریونت ریڈی نے تھُمّڈی ہٹی بیراج کی تعمیر میں تیزی لانے کی دی ہدایت

پروجیکٹ کی عجلت کو دہراتے ہوئے مسٹر ریڈی نے تلنگانہ کے کسانوں کی جانب سے مرکزی وزیر سے اپیل کرنے کو کہا۔ اس کے علاوہ انہوں نے افسران کو مانسون شروع ہونے سے پہلے میدی گڈا بیراج کی بحالی سے متعلق جیو ٹیسٹنگ (ارضیاتی جانچ) کے کاموں میں تیزی لانے اور اسے مکمل کرنے کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی نے ریاست میں آبپاشی اور پینے کے پانی کی فراہمی میں تھُمّڈی ہٹی بیراج کی اسٹریٹجک افادیت بتاتے ہوئے اس کے تعمیراتی کام میں تیزی لانے کی ہدایت دی ہے۔


ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ نے آبپاشی کے وزیر اتم کمار ریڈی کے ساتھ آبپاشی انجینئروں اور ماہرین کے ساتھ پروجیکٹ کے تکنیکی پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ افسران نے مجوزہ بیراج کی اونچائی اور پانی کے استعمال کی صلاحیت پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن دی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست پرانہتا-چیویلا پروجیکٹ پر پہلے ہی تقریباً 11,000 کروڑ روپے خرچ کر چکی ہے اور کئی حصوں میں 71.5 کلومیٹر نہر کا کام مکمل ہو چکا ہے۔


ماہرین نے بیراج کو 150 میٹر کی اونچائی پر بنانے کی سفارش کی اور کہا کہ اس سے موجودہ بنیادی ڈھانچے کا مؤثر استعمال کرتے ہوئے کم از کم 100 کروڑ مکعب فٹ (ٹی ایم سی) پانی کا استعمال ممکن ہو سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ مہاراشٹر پہلے 148 میٹر کی ساخت پر رضامند ہوا تھا، لیکن 150 میٹر کا ڈیزائن زمین کے ڈوبنے کے خدشات کو کم کرنے اور کم لاگت پر پانی کی نکاسی کو یقینی بنانے کے درمیان توازن برقرار رکھے گا۔


وزیر اعلیٰ نے زور دے کر کہا کہ اس پروجیکٹ سے عادل آباد سمیت بالائی علاقوں کو آبپاشی اور پینے کے پانی کا فائدہ ملے گا اور اس سے سری پاد یلم پلی ریزروائر میں کم لاگت پر کشش ثقل پر مبنی پانی کی منتقلی کی سہولت ملے گی۔


بین ریاستی ہم آہنگی کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے مسٹر ریڈی نے افسران کو مہاراشٹر حکومت کے ساتھ فوری طور پر مشاورت شروع کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے وزیر اتم کمار ریڈی کو مرکزی وزیر جی کشن ریڈی کو خط لکھنے کی بھی ہدایت دی، تاکہ وہ مہاراشٹر کو سمجھانے اور تلنگانہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے مداخلت کریں۔ یہ خط فوری طور پر بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور مرکزی وزیر کے ساتھ ذاتی ملاقات کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔


وزیر اعلیٰ نے یقین دلایا کہ مجوزہ اونچائی سے مہاراشٹر میں کوئی اہم علاقہ زیر آب نہیں آئے گا اور انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو ریاست معاوضہ دینے کے لیے بھی تیار ہے۔


پروجیکٹ کی عجلت کو دہراتے ہوئے مسٹر ریڈی نے تلنگانہ کے کسانوں کی جانب سے مرکزی وزیر سے اپیل کرنے کو کہا۔ اس کے علاوہ انہوں نے افسران کو مانسون شروع ہونے سے پہلے میدی گڈا بیراج کی بحالی سے متعلق جیو ٹیسٹنگ (ارضیاتی جانچ) کے کاموں میں تیزی لانے اور اسے مکمل کرنے کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔