حیدرآباد

سعودی بس حادثہ، شہداء کے لواحقین حج ہاؤس سے مدینہ کے لئے روانہ

سعودی عرب میں پیش آنے والے افسوسناک بس حادثے میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد شہر بھر میں غم و سوگ کی فضا قائم ہے۔

سعودی عرب میں پیش آنے والے افسوسناک بس حادثے میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کے جاں بحق ہونے کے بعد شہر بھر میں غم و سوگ کی فضا قائم ہے۔ سانحے کے متاثرین کے اہلِ خانہ سعودی عرب میں آخری رسومات اور دیگر ضروری کارروائیوں کے لیے آج شہر سے روانہ ہو چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں
جمعہ: دعا کی قبولیت، اعمال کی فضیلت اور گناہوں کی معافی کا سنہری دن،مولانامفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کا خطاب
کےسی آر کی تحریک سے ہی علیحدہ ریاست تلنگانہ قائم ہوئی – کانگریس نے عوامی مفادات کوبہت نقصان پہنچایا :عبدالمقیت چندا
ڈاکٹر فہمیدہ بیگم کی قیادت میں جامعہ عثمانیہ میں اردو کے تحفظ کی مہم — صحافیوں، ادبا اور اسکالرس متحد، حکومت و یو جی سی پر دباؤ میں اضافہ
مولانا محمد علی جوہرنے تحریک آزادی کے جوش میں زبردست ولولہ اور انقلابی کیفیت پیدا کیا: پروفیسر ایس اے شکور
اردو اکیڈمی جدہ کے وفد کی قونصل جنرل ہند سے ملاقات، سرگرمیوں اور آئندہ منصوبوں پر تبادلۂ خیال

اے آئی ایم آئی ایم کی قیادت اس مشکل ترین گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ ریونت ریڈی اور اے آئی ایم آئی ایم پارٹی کے صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی کی نگرانی میں ریاستی وزیر محمد اظہرالدین اور نامپلی کے رکنِ اسمبلی جناب ماجد حسین بذاتِ خود تمام امور کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ متاثرہ خاندانوں کو کوئی دشواری پیش نہ آئے۔

اہلِ خانہ آج رات ایئرپورٹ سے سعودی عرب روانہ ہو نے کے لئے نکل چکے ہیں، جہاں وہ اپنے پیاروں کی میتوں سے متعلق سرکاری کارروائی، تدفین اور دیگر انتظامات کو مکمل کریں گے۔ روانگی کے وقت ملے پلی کارپوریٹر ظفر خان، تلنگانہ وقف بورڈ کے چیئرمین اور دیگر ذمہ داران موجود رہے۔

واضح رہے کہ حکومتِ تلنگانہ نے سانحہ کے ہر شہید کے خاندان سے دو دو افراد کو سرکاری خرچ پر مدینہ منورہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جن اہلِ خانہ کے پاس پاسپورٹ موجود نہیں تھے، حکومت نے چند گھنٹوں میں فوری پاسپورٹ تیار کروائے اور اسی روز سعودی ویزا بھی فراہم کیا۔ حکومت نے اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ تجہیز و تکفین کے تمام اخراجات، رہائش اور دیگر ضروری سہولیات بھی ریاست برداشت کرے گی۔