16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا ضوابط بنائے جائیں، سعودی مجلسِ شوریٰ
مجلسِ شوریٰ نے یہ سفارش ٹرانسپورٹ، کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمیٹی کی رپورٹ پر غور کے بعد منظور کی۔ کمیٹی کے نائب صدر انجینئر خالد البریک نے مالی سال 1446-47 کے لیے کمیونیکیشن، سپیس اینڈ ٹیکنالوجی کمیشن کی سالانہ رپورٹ پر ارکان کی آراء اور مشاہدات ایوان کے سامنے پیش کیے۔
ریاض: سعودی مجلسِ شوریٰ نے کمیونیکیشن، سپیس اینڈ ٹیکنالوجی کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے عمر کی تصدیق کے ضوابط اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال سے متعلق قواعد وضع کیے جائیں تاکہ ڈیجیٹل دنیا میں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
مجلسِ شوریٰ نے یہ سفارش ٹرانسپورٹ، کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کمیٹی کی رپورٹ پر غور کے بعد منظور کی۔ کمیٹی کے نائب صدر انجینئر خالد البریک نے مالی سال 1446-47 کے لیے کمیونیکیشن، سپیس اینڈ ٹیکنالوجی کمیشن کی سالانہ رپورٹ پر ارکان کی آراء اور مشاہدات ایوان کے سامنے پیش کیے۔
مجلسِ شوریٰ نے زور دیا کہ کمیشن ایسے ضوابط تیار کرے جن کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے عمر کی تصدیق کا مؤثر نظام نافذ کیا جائے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال سے متعلق واضح قواعد مرتب کیے جائیں۔
یہ سفارش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب بچوں کو سائبر سپیس میں درپیش خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف ڈیجیٹل اقدامات پر عمل پیرا ہے۔
اسی سلسلے میں سعودی عرب نے 2025 میں "سائبر سپیس میں بچوں کے تحفظ کے اشاریے” کے قیام کا آغاز کیا تھا، جسے انٹرنیشنل سائبر سیکیورٹی فورم فاؤنڈیشن نے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ (DQ) اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے متعارف کرایا۔
یہ اقدام سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے شروع کیے گئے عالمی منصوبے کا حصہ ہے، جس کا مقصد سائبر سپیس میں بچوں کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات سے متعلق عالمی سطح پر آگاہی میں اضافہ اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ہے۔
ماہرین کے مطابق بچوں کے تحفظ کا یہ اشاریہ دنیا بھر میں ڈیجیٹل ماحول کو محفوظ بنانے کی پیش رفت جانچنے کے لیے ایک عالمی معیار کے طور پر کام کرے گا اور ممالک کو اس شعبے میں اپنی پالیسیوں کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔
رپورٹ کے مطابق "سائبر سپیس میں بچوں کا تحفظ” اقدام عالمی سطح پر اس مسئلے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے پیش نظر متعارف کرایا گیا، جبکہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے جولائی 2025 میں سعودی عرب کی پیش کردہ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے دنیا بھر میں بچوں کے لیے محفوظ ڈیجیٹل ماحول کی ضرورت پر زور دیا۔