مشرق وسطیٰ

ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر تکنیکی مذاکرات جلد شروع ہوں گے

ترجمان کے مطابق ایرانی حکام پہلے ہی متعدد ایسے بحری جہازوں کی نقل و حرکت روک چکے ہیں جنہوں نے تہران کی جانب سے "غیر متعین" قرار دیے گئے راستوں سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کی تھی، اور مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رہیں گے۔

تہران: ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظامات سے متعلق ایران اور سلطنت عمان کے ماہرین آئندہ چند روز میں تکنیکی مذاکرات کا آغاز کریں گے، جن میں سمندری راہداریوں کے نئے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔


ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق تہران نے مسقط کو آگاہ کر دیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری راہداریوں کی ازسرنو وضاحت ضروری ہے تاکہ جہاز رانی کے نظام کو نئے انتظامات کے مطابق منظم کیا جا سکے۔


وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ متوقع مذاکرات میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی آمد و رفت کو نئے ضوابط کے تحت منظم کرنے پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔


انہوں نے کہا کہ ایران ان اقدامات پر عمل درآمد جاری رکھے گا جنہیں وہ آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو منظم اور کنٹرول کرنے کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔


ترجمان کے مطابق ایرانی حکام پہلے ہی متعدد ایسے بحری جہازوں کی نقل و حرکت روک چکے ہیں جنہوں نے تہران کی جانب سے "غیر متعین” قرار دیے گئے راستوں سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کی تھی، اور مستقبل میں بھی ایسے اقدامات جاری رہیں گے۔


ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ فرانس اور اس کے شراکت دار آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹانے کی کارروائی میں حصہ لیں گے۔


تہران نے فرانسیسی مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق امور ایران کی خودمختاری کا حصہ ہیں اور یہ ذمہ داری صرف ایران ہی انجام دے گا، جیسا کہ امریکہ کے ساتھ طے شدہ مفاہمتی یادداشت میں درج ہے۔


ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے فرانس کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حساس حالات میں آبنائے ہرمز میں کسی بھی فرانسیسی اقدام کو اشتعال انگیزی تصور کیا جائے گا، جو خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔