آیوش ملک نے دوبارہ سناتن دھرم اختیار کرنے کا اعلان کیا، ویڈیو وائرل، مذہب تبدیلی کا مقدمہ بدستور زیرِ تفتیش
دوسری جانب آیوش ملک کے والد دیوراج ملک نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیٹے نے باقاعدہ طور پر دوبارہ سناتن دھرم اختیار کر لیا ہے۔ انہوں نے پہلے پولیس میں درج کرائی گئی شکایت میں الزام عائد کیا تھا کہ چاندنی قریشی اور ان کے والد اسلام قریشی نے آیوش کو مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کیا اور خاندان کی جائیداد پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔
شاملی: اتر پردیش کے ضلع شاملی سے تعلق رکھنے والے آیوش ملک، جنہوں نے قبل ازیں اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا تھا، نے اب دوبارہ سناتن دھرم اختیار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں وہ ہندو مذہبی رسومات ادا کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں اور اپنے آبائی مذہب میں واپسی کا اعلان کر رہے ہیں۔
ویڈیو میں آیوش ملک کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے دوبارہ سناتن دھرم اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق والدین کی پریشانی، خاندان کی خواہش اور اپنے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے یہ قدم اٹھایا۔
آیوش نے ویڈیو میں کہا، "میں نے پہلے اسلام قبول کیا تھا، لیکن اب اپنی آزاد مرضی سے دوبارہ ہندو مذہب اختیار کر رہا ہوں۔ میں اپنے خاندان کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں اور انہی کی سرپرستی میں اپنی زندگی گزارنا چاہتا ہوں۔”
دوسری جانب آیوش ملک کے والد دیوراج ملک نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیٹے نے باقاعدہ طور پر دوبارہ سناتن دھرم اختیار کر لیا ہے۔ انہوں نے پہلے پولیس میں درج کرائی گئی شکایت میں الزام عائد کیا تھا کہ چاندنی قریشی اور ان کے والد اسلام قریشی نے آیوش کو مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کیا اور خاندان کی جائیداد پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔
پولیس کے مطابق والد کی شکایت کی بنیاد پر چاندنی قریشی اور اسلام قریشی کے خلاف اتر پردیش غیر قانونی مذہب تبدیلی روک تھام قانون اور بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، جس کے بعد دونوں کو گرفتار کیا گیا۔ تاہم مقدمہ تاحال زیرِ تفتیش ہے اور عدالت کی جانب سے اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
تحقیقات کے دوران پولیس نے بتایا کہ آیوش ملک، جو بی فارما گریجویٹ ہیں اور اپنے خاندان کے میڈیکل اسٹور سے وابستہ تھے، سن 2018 میں علاج کے دوران چاندنی قریشی سے متعارف ہوئے، جس کے بعد دونوں کے درمیان تعلقات قائم ہوئے۔
ایف آئی آر میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ سال 2023 میں آیوش کو دہلی لے جا کر اسلام قبول کروایا گیا، ان کا نام محمد علی رکھا گیا اور ان کا نکاح بھی کرایا گیا۔ تاہم پولیس کے مطابق تحقیقات کے دوران نکاح کا کوئی سرکاری سرٹیفکیٹ برآمد نہیں ہوا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر آیوش ملک کی دوبارہ سناتن دھرم اختیار کرنے سے متعلق ویڈیو وائرل ہونے کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر عوامی اور سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔