ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سیز فائر مذاکرات کا دوسرا دور شروع
پاکستان کی دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سیز فائر مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو گیا ہے۔ پہلا راؤنڈ 2 گھنٹے تک چلا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس دوران ایران نے لبنان پر فوری طور پر اسرائیلی حملے روکنے کا مطالبہ کیا۔
اسلام آباد: پاکستان کی دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سیز فائر مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو گیا ہے۔ پہلا راؤنڈ 2 گھنٹے تک چلا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس دوران ایران نے لبنان پر فوری طور پر اسرائیلی حملے روکنے کا مطالبہ کیا۔
اس میٹنگ میں ماہرین نے سیکورٹی، سیاست، فوج، معیشت اور قانون سے جڑے مسائل پر بات چیت کی۔ امریکہ کی طرف سے نائب صدر جے ڈی وینس، جبکہ ایران کی طرف سے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے قیادت کی۔
یہ میٹنگ کل بھی جاری رہ سکتی ہے۔ 47 سال پہلے یعنی 1979 میں ایران کے اسلامی انقلاب کے بعد یہ پہلی بار ہے جب دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اتنے بڑے پیمانے پر آمنے سامنے بیٹھ کر مذاکرات کیے۔
اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ اگر اسلام آباد میں جاری یہ بات چیت کسی نتیجے پر نہیں پہنچی، تو صرف اسرائیل کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اسرائیل اور امریکہ کے فیصلے آپس میں جڑے ہوئے ہیں، اس لیے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ذمہ داری امریکہ پر بھی عائد ہوگی۔
امریکی میڈیا کے مطابق اسلام آباد میں جاری ایران اور امریکہ مذاکرات میں پیش رفت کے لیے مزید وقت درکار ہو سکتا ہے، جس کے باعث یہ بات چیت کل بھی جاری رہنے کی توقع ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مذاکرات اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں۔