نامپلی میں سینئر وکیل خواجہ معزالدین ہٹ اینڈ رن حملے میں جاں بحق
حادثے کے فوراً بعد مقامی افراد اور اہل خانہ نے خواجہ معزالدین کو شدید زخمی حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم وہ دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے سر اور جسم کے مختلف حصوں پر گہری چوٹیں آئی تھیں۔
حیدرآباد: حیدرآباد کے نامپلی علاقے میں ایک سینئر وکیل پر مشتبہ ہٹ اینڈ رن حملے کا انتہائی سنسنی خیز واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں معروف سینئر ایڈوکیٹ خواجہ معزالدین جاں بحق ہوگئے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد شہر بھر کے قانونی حلقوں میں شدید غم و غصہ اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ ہفتہ کی صبح اُس وقت پیش آیا جب خواجہ معزالدین اپنے گھر سے باہر نکل کر اپنی کار میں بیٹھنے جارہے تھے۔ اسی دوران ایک تیز رفتار اسکارپیو ایس یو وی اچانک وہاں پہنچی اور انہیں زور دار ٹکر ماردی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ وہ کئی فٹ دور جا گرے اور شدید زخمی ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار نامعلوم افراد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
واقعے کی ایک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایس یو وی انتہائی تیز رفتاری سے آتی ہے اور سیدھا خواجہ معزالدین کو نشانہ بناتے ہوئے ٹکر مارتی ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے اور کئی افراد اس واقعے کو مشتبہ قرار دے رہے ہیں۔
حادثے کے فوراً بعد مقامی افراد اور اہل خانہ نے خواجہ معزالدین کو شدید زخمی حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی بھرپور کوشش کی، تاہم وہ دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے سر اور جسم کے مختلف حصوں پر گہری چوٹیں آئی تھیں۔
اطلاع ملتے ہی نامپلی پولیس موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کردیں۔ پولیس نے جائے وقوعہ کے اطراف نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج حاصل کرلی ہے اور فرار ہونے والی اسکارپیو گاڑی کی شناخت کی کوشش جاری ہے۔ پولیس ٹیم نے اسپتال پہنچ کر اہل خانہ اور عینی شاہدین کے بیانات بھی قلمبند کیے ہیں۔
دوسری جانب خواجہ معزالدین کے اہل خانہ اور ساتھی وکلاء نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ محض ایک سڑک حادثہ نہیں بلکہ پہلے سے منصوبہ بند حملہ ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جس انداز میں گاڑی نے انہیں نشانہ بنایا، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آوروں کا مقصد انہیں نقصان پہنچانا تھا۔
ذرائع کے مطابق خواجہ معزالدین وقف جائیدادوں سے متعلق اہم مقدمات کی پیروی کررہے تھے، جس کے باعث اس واقعے کو مزید حساس سمجھا جارہا ہے۔ پولیس قتل، سازش اور دیگر تمام ممکنہ زاویوں سے معاملے کی جانچ کررہی ہے۔
واقعے کے بعد وکلاء برادری میں شدید غم و غصہ پایا جارہا ہے۔ کئی وکلاء تنظیموں نے اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے خاطیوں کی فوری گرفتاری اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ قانونی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سینئر وکلاء بھی محفوظ نہیں تو یہ قانون و انصاف کے نظام کے لیے انتہائی تشویشناک بات ہے۔