کرناٹک میں اقتدار کی تبدیلی کے درمیان سدارمیا نے گاندھی خاندان سے ملاقات کی
پارٹی ذرائع کے مطابق، سبکدوش ہونے والی سدارمیا کابینہ کے کئی وزراء کو مسٹر شیوکمار کی قیادت میں بننے والی مجوزہ حکومت میں جگہ نہیں ملنے کا امکان ہے۔ علاقائی اور سماجی توازن برقرار رکھنے کے لیے چار نائب وزرائے اعلیٰ (ڈپٹی سی ایم) کے تقرر کے امکان پر بھی غور کیا گیا۔
نئی دہلی: کرناٹک کے سبکدوش ہونے والے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے جمعہ کے روز قومی راجدھانی میں کانگریس کے سینئر رہنماؤں سے ملاقات کی ہے۔ ان کے استعفے کے بعد ریاست میں اگلی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا مسٹر سدارمیا نے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار اور کرناٹک کانگریس کے انچارج رندیپ سرجے والا کے ہمراہ راجدھانی میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی سے ملاقات کی۔
ذرائع کے مطابق، اس میٹنگ میں نئی حکومت کی تشکیل پر توجہ مرکوز کی گئی، جس میں ممکنہ کابینہ میں ردوبدل، راجیہ سبھا کے لیے نامزدگی اور قانون ساز کونسل میں تقرریاں شامل تھیں۔ دونوں رہنماؤں کی جمعہ کی دوپہر بعد کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے سے بھی ملاقات متوقع ہے۔
پارٹی ذرائع کے مطابق، سبکدوش ہونے والی سدارمیا کابینہ کے کئی وزراء کو مسٹر شیوکمار کی قیادت میں بننے والی مجوزہ حکومت میں جگہ نہیں ملنے کا امکان ہے۔ علاقائی اور سماجی توازن برقرار رکھنے کے لیے چار نائب وزرائے اعلیٰ (ڈپٹی سی ایم) کے تقرر کے امکان پر بھی غور کیا گیا۔
اسی دوران کرناٹک کے گورنر تھاور چند گہلوت نے آج مسٹر سدارمیا کا استعفیٰ قبول کر لیا اور کابینہ کو فوری طور پر تحلیل کر دیا۔
گورنر ہاؤس سے جاری ایک سرکاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ متبادل انتظامات ہونے تک مسٹر سدارمیا نگراں وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔
عہدہ چھوڑنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسٹر سدارمیا نے کانگریس قیادت اور کرناٹک کے عوام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے انہیں دو بار وزیر اعلیٰ بننے کا موقع دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد ممبرانِ اسمبلی کی حمایت کے ساتھ کرناٹک اسمبلی میں کانگریس کے پاس واضح اکثریت ہے اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگلے وزیر اعلیٰ کے تقرر میں آئینی عمل کی پاسداری کی جائے گی۔