کرناٹک کابینہ نے 52 مقدمات واپس لینے کی منظوری دی
وزیر داخلہ نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اراکین اسمبلی اور وزراء کو اپنے اپنے حلقوں اور اضلاع میں اس عمل کی سخت نگرانی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی مکمل شفافیت اور منظم انداز میں انجام پائے تاکہ کسی قسم کی بے ضابطگی نہ ہو۔
بنگلورو: کرناٹک حکومت نے ریاست بھر کے مختلف پولیس تھانوں میں درج 52 فوجداری مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے ریاست کے وزیر داخلہ جی پرمیشور نے کہا کہ یہ فیصلہ کابینہ کی ایک ذیلی کمیٹی کی جانب سے ہر مقدمے کا تفصیلی جائزہ لینے اور قانونی بنیاد ملنے کے بعد کیا گیا انہوں نے بتایا کہ ان مقدمات میں کنڑ تنظیمیں، کسان تنظیمیں اور دیگر کئی سماجی گروہ شامل تھے جو طویل عرصے سے حکومت سے مقدمات واپس لینے کی اپیل کر رہے تھے۔
ان تنظیموں کی جانب سے بار بار نمائندگی کیے جانے کے بعد معاملہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے سپرد کیا گیا تاکہ قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
جی۔ پرمیشور کے مطابق کمیٹی نے ہر مقدمے پر الگ الگ غور کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا انہیں قانونی طور پر واپس لیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ تفصیلی جانچ کے بعد کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ بعض مقدمات واپس لینے کی قانونی گنجائش موجود ہے۔ بعد ازاں یہ سفارشات کابینہ کے سامنے پیش کی گئیں، جس نے 52 مقدمات واپس لینے کی منظوری دے دی۔
وزیر داخلہ نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اراکین اسمبلی اور وزراء کو اپنے اپنے حلقوں اور اضلاع میں اس عمل کی سخت نگرانی کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی مکمل شفافیت اور منظم انداز میں انجام پائے تاکہ کسی قسم کی بے ضابطگی نہ ہو۔