بھارت

’’خاموش، ابھی کمرہ عدالت سے باہر نکل جاؤ‘‘ چیف جسٹس آف انڈیا آپا کھو بیٹھے

ایک رپورٹ کے مطابق سینئر وکلاء کپل سبل اور این کے کول نے بعد میں بار اسوسی ایشن کی جانب سے چیف جسٹس سے معافی مانگ لی۔

نئی دہلی: چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ نے آج عدالت میں اس وقت اپنا آپا کھو دیا جب سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن کے صدر نے ایک معاملہ کی عاجلانہ سماعت پر اصرار کیا۔ تاہم چیف جسٹس اس پر برہم ہوگئے اور بلند آواز میں بار اسوسی ایشن کے صدر وکاس سنگھ کو حکم دیا کہ وہ کمرہ عدالت سے فوری باہر نکل جائیں۔

متعلقہ خبریں
یوم ”میرا ووٹ میرا حق“ کے موقع پر چیف جسٹس آف انڈیا کا پیام
چیف جسٹس آف انڈیا نے دستورِ ہند کی کھل کر ستائش کی

اطلاعات کے مطابق جسٹس چندر چوڑ، سینئر ایڈوکیٹ وکاس سنگھ پر اس وقت چیخ پڑے جب وہ سپریم کورٹ کے وکلاء کے لئے زمین سے متعلق کیس کو آگے بڑھانے پر مسلسل اصرار کر رہے تھے۔

چیف جسٹس نے غصے سے کہا: ’’خاموش رہو، کمرہ عدالت کو ابھی چھوڑ دو، تم ہمیں اپنے آگے نہیں جھکا سکتے‘‘!

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر وکاس سنگھ، وکلاء کی تنظیم کی طرف سے ایک درخواست کی سماعت پر زور دے رہے تھے جس میں یہ التجا کی گئی کہ سپریم کورٹ کو الاٹ کی گئی زمین وکلاء کے چیمبر بلاک کے لئے استعمال کی جائے۔

ایڈوکیٹ وکاس سنگھ نے کہا کہ وکلاء گزشتہ چھ ماہ سے اپنا کیس آگے بڑھانے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔

جسٹس چندر چوڑ نے ریمارک کیا کہ آپ اس طرح زمین کا مطالبہ نہیں کر سکتے۔ آپ بتائیں کہ کیا ہم سارا دن بے کار بیٹھے رہتے ہیں؟

ایڈوکیٹ وکاس سنگھ نے جواب دیا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ آپ سارا دن بیکار بیٹھے رہتے ہیں۔ میں صرف یہ معاملہ آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اگر اس معاملہ کو آگے نہیں بڑھایا گیا تو مجھے مجبوراً اسے لے کر آپ کی رہائش گاہ آنا پڑے گا۔ میں نہیں چاہتا کہ سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن کے معاملہ کو ہلکے میں لیا جائے۔

یہ سن کر چیف جسٹس کو غصہ آگیا اور انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو دھمکیاں مت دیں۔ کیا بات کرنے کا یہی طریقہ ہے؟ اپنا لہجہ اور برتاؤ درست کریں۔ میں چیف جسٹس ہوں، میں 29 مارچ 2000 سے یہاں ہوں۔ میں 22 سال سے اس پیشے سے وابستہ ہوں۔ میں نے کبھی بھی اپنے آپ کو بار کے کسی رکن، مدعی یا کسی اور کو مجھے جھکانے یا مجبور کرنے کی اجازت نہیں دی اور اب اپنے کیریئر کے آخری دو سالوں میں بھی ایسا ہونے نہیں دوں گا۔

چیف جسٹس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آپ کو ایک عام مدعی سمجھا جائے گا، براہ کرم مجھے کچھ ایسا کرنے نہ دیں جو آپ نہیں چاہتے۔ انہوں نے ایڈوکیٹ وکاس سنگھ کو اپنی آواز نیچی رکھنے کا بھی حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ براہ کرم اپنی آواز بلند نہ کریں۔ سپریم کورٹ بار اسوسی ایشن کے صدر کی حیثیت سے برتاؤ کرنے کا یہ طریقہ مناسب نہیں ہے۔

آپ بار اسوسی ایشن کے لئے سپریم کورٹ کو الاٹ کی گئی زمین مانگ رہے ہیں۔ میں نے اپنا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کی 17 تاریخ کو سماعت ہوگی اور ضروری نہیں ہے کہ اس معاملہ کو پہلے نمبر پر لیا جائے۔

ایک رپورٹ کے مطابق سینئر وکلاء کپل سبل اور این کے کول نے بعد میں بار اسوسی ایشن کی جانب سے چیف جسٹس سے معافی مانگ لی۔