حیدرآباد

سری رام ساگر پروجیکٹ سے ریاستی حکومت ریت نکالنے کیلئے مرکزی حکومت سے رجوع

پروجیکٹ سے 16 لاکھ ایکڑ زمین کو سیراب کیاجارہا تھا جو اب گھٹ کر 9 لاکھ 65 ہزار ہیکٹر ہوگیا ہے۔

حیدرآباد۔  آنجہانی وزیر اعظم جواہر لال نہرو کے ہاتھوں سال 1963 میں افتتاح کئے گئے سری رام ساگر پروجیکٹ میں بہت زیادہ ریت جمع ہوجانے کے سبب اس وقت اِس ڈیم میں صرف87 فیصد ٹی ایم سی پانی ہی جمع ہورہا ہے جبکہ اس کی کل صلاحیت 112 ٹی ایم سی کی تھی۔

ریاستی حکومت ریت نکالنے کیلئے مرکزی حکومت سے رجوع ہوگئی ہے جو اس مسئلہ کو ماہرین کی ایک کمیٹی کے حوالے کرے گی تاکہ اِس پروجیکٹ میں جمع ریت کو نکالا جاسکے اور اس کی پانی جمع کرنے کی صلاحیت کو بڑھایاجاسکے۔

ریاستی حکومت کے تین وزرائ مسرز اتم کمارریڈی، سریدھر بابو  اور وویک وینکٹ سوامی ، حکومت کے مشیر سدرشن ریڈی ، ایم ایل اے بودھن ، نظام آباد رورل کے ایم ایل اے گوپتی اور اردو اکیڈیمی کے صدرنشین جناب طاہر بن حمدان نے آج پروجیکٹ کا تفصیل سے معائنہ کیا۔ آپ کو یاد ہوگا کہ ریت جمع ہونے سے پہلے اِس پروجیکٹ سے 16 لاکھ ایکڑ زمین کو سیراب کیاجارہا تھا جو اب گھٹ کر 9 لاکھ 65 ہزار ہیکٹر ہوگیا ہے۔