آبنائے ہرمز تنازعہ، یوروپ کا جنگ سے انکار، ٹرمپ کا نیٹو سے علیحدگی کا اشارہ
ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نیٹو اتحاد سے علیحدگی پر غور کر رہا ہے۔ برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے نیٹو کو "کاغذی شیر" قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
واشنگٹن: مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اہم سفارتی اور سیاسی پیشرفت سامنے آ رہی ہے۔ آبنائے ہرمز میں رکاوٹیں دور کرنے کے لیے ڈونالڈ ٹرمپ نے یورپی ممالک سے ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی میں ساتھ دینے کی اپیل کی تھی، تاہم یورپی ممالک نے اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔
اسی تناظر میں برطانیہ کے وزیرِ اعظم کائر اسٹمر نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ ان کی جنگ نہیں ہے اور برطانیہ اس تنازع میں شامل نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہرمز آبنائے سے گزرنے کے لیے سفارتی اور عملی اقدامات کے ذریعے راستہ نکالا جائے گا۔
دوسری جانب ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نیٹو اتحاد سے علیحدگی پر غور کر رہا ہے۔ برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے نیٹو کو "کاغذی شیر” قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ روس بھی نیٹو کی حقیقت سے واقف ہے اور وہ اس اتحاد کے بیانات سے کبھی متاثر نہیں ہوئے۔ ہرمز آبنائے کے مسئلے پر ساتھ نہ دینے پر ٹرمپ نے نیٹو ممالک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں کمزور اور بزدل قرار دیا۔
یہ تمام صورتحال عالمی سیاست میں ایک نئی کشیدگی کی طرف اشارہ کر رہی ہے، جہاں ایک طرف امریکہ اور یورپ کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں، وہیں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔