تلنگانہ

تلنگانہ: ویمل واڑہ میں عمارتوں کو منہدم کرنے کی کوشش ۔ متاثرین نے بلڈوزروں کے سامنے بیٹھ کر احتجاج

پولیس نے موقع پر پہنچ کر احتجاج کرنے والوں کو زبردستی وہاں سے ہٹایا۔ حکام کی جانب سے ویمل واڑہ میں زیرتعمیر پل کے دونوں طرف اراضی کے حصول کے لیے پہلے ہی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ تاہم، اتوار کی آدھی رات کو تقریباً 30 متاثرین کو بغیر کسی پیشگی اطلاع یا معاوضہ کے جگہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے راجناسرسلہ ضلع کے ویمل واڑہ بلدی حدود میں واقع تپاپور میں پیر کی صبح کشیدگی کا ماحول دیکھا گیا۔ سڑک کی تعمیر کے لیے مقامی عمارتوں کو منہدم کرنے کی کوشش پر متاثرین نے سخت اعتراض کیا اور بلڈوزروں کے سامنے بیٹھ کر احتجاج کیا۔

متعلقہ خبریں
ضلع سرسلہ میں 30بندر مردہ پائے گئے
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
نارائن پیٹ میں ضلع کانگریس کی نئی کمیٹی کا اعلان، پارٹی کو گاؤں کی سطح تک مضبوط بنانے پر زور
علمِ بی بی مبارک کی سواری کے لیے ہاتھی کی منظوری، میر فراست علی باقری کا حکومتِ تلنگانہ اور جی کشن ریڈی سے اظہارِ تشکر
نیشنل اوورسیز اسکالرشپ: گاؤں اور چھوٹے قصبوں کے طلبہ کے عالمی تعلیمی خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا ذریعہ

ان کا مطالبہ تھا کہ جب تک مناسب معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا تب تک انہدامی کارروائیاں روکی جائیں۔


پولیس نے موقع پر پہنچ کر احتجاج کرنے والوں کو زبردستی وہاں سے ہٹایا۔ حکام کی جانب سے ویمل واڑہ میں زیرتعمیر
پل کے دونوں طرف اراضی کے حصول کے لیے پہلے ہی نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ تاہم، اتوار کی آدھی رات کو تقریباً 30 متاثرین کو بغیر کسی پیشگی اطلاع یا معاوضہ کے جگہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا۔


حکام نے بھاری جے سی بی مشینیں دکانوں کے سامنے کھڑی کیں، جس کے بعد دکان مالکان نے راتوں رات اپنا سامان سمیٹنا شروع کیا۔ بلڈوزروں کو دیکھتے ہی لوگ خوف و ہراس کا شکار ہوگئے اور کچھ ہی دیر میں عمارتیں خالی کر دیں۔


پیر کی صبح عمارتوں کو منہدم کرنے کی کوشش شروع ہوتے ہی متاثرہ دکانداروں اورمقامی افراد نے شدید مخالفت کی۔ بعض نے عمارتوں کی چھتوں پر چڑھ کر احتجاج کیا، جب کہ کئی افراد نے دکانوں کے سامنے بیٹھ کر دھرنا دیا۔


پولیس نے ان تمام مظاہرین کو زبردستی وہاں سے ہٹا دیا۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی بار حکام سے درخواست کی کہ معاوضہ دینے کے بعد ہی کارروائی کی جائے، مگر ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں تھا۔


متاثرین نے حکومت کے اس روےہ پر شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بغیر کسی مہلت کے دکانیں خالی کرانا ان کی روزی روٹی پر بڑا حملہ ہے۔