تلنگانہ

تلنگانہ بلدی انتخابات، ریزرویشن کی فہرست جاری، فروری میں پولنگ کا امکان

بلدی قانون کے مطابق خواتین کے لئے 50 فیصد نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ 121 بلدی چیئرمین کے عہدوں میں سے 60 نشستیں خواتین کے لئے محفوظ کی گئی ہیں۔ میئر کے عہدوں پر بھی 50 فیصد خواتین کے ریزرویشن کی وجہ سے عام زمرہ میں صرف ایک میئر کی نشست باقی رہ گئی ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ میں بلدی انتخابات کی تیاریاں اپنے آخری مرحلہ میں پہنچ گئی ہیں۔ ووٹر لسٹ کی حتمی اشاعت کے بعد اب محکمہ بلدی نظم ونسق وشہری ترقی نے میونسپل کارپوریشنوں اور بلدیات کے لئے ریزرویشن کی تفصیلات کو قطعیت دے دی ہے۔ ریاست کے مجموعی طور پر 131 بلدی اداروں (10 کارپوریشن اور 121 بلدیات) کے لئے ریزرویشن کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
انوار العلوم کالج کے فارغین کی ملک و بیرون ممالک منفرد واعلی خدمات – لڑکیاں تعلیم کے میدان میں مزید آگے بڑھیں
اندرامّا مہیلا شکتی اسکیم کے تحت اقلیتی خواتین میں سلائی مشینوں کی تقسیم
کانگریس کی سیاست اقتدار نہیں، عوامی خدمت کے لیے ہے: محمد فہیم قریشی
ترجیحی شعبوں میں قرضوں کی منظوری یقینی بنائی جائے: ضلع کلکٹر ہری چندنہ داسری
پوسٹ میٹرک اسکالرشپ درخواستوں کی تاریخ میں توسیع، آخری تاریخ 31 مارچ 2026 مقرر


میئر، میونسپل چیئرمین، کونسلر اور کارپوریٹر کے عہدوں کے لئے ریزرویشن طے کئے گئے ہیں جو اس طرح ہیں۔


بی سی طبقہ کو مجموعی طور پر تقریباً 31 فیصد ریزرویشن فراہم کئے گئے ہیں۔ میئر کے عہدوں میں بی سی کے لئے 30 فیصد جبکہ بلدیات میں یہ شرح 31.40 فیصد تک رکھی گئی ہے۔


بلدی قانون کے مطابق خواتین کے لئے 50 فیصد نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ 121 بلدی چیئرمین کے عہدوں میں سے 60 نشستیں خواتین کے لئے محفوظ کی گئی ہیں۔ میئر کے عہدوں پر بھی 50 فیصد خواتین کے ریزرویشن کی وجہ سے عام زمرہ میں صرف ایک میئر کی نشست باقی رہ گئی ہے۔


شہری علاقوں میں ایس ٹی آبادی کم ہونے کی وجہ سے ان کا کوٹہ بی سی طبقہ میں منتقل کیا گیا ہے۔ میئر کے عہدوں میں ایس سی اور ایس ٹی کے لئے ایک ایک نشست مختص ہوئی ہے۔


الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ حتمی فہرست کے مطابق مجموعی ووٹرس کی تعداد 52.43 لاکھ ہے جبکہ خاتون رائے دہندوں کی تعداد 26.80 لاکھ ہے (مردوں سے زیادہ)، مرد ووٹرس: 25.62 لاکھ ہیں جبکہ دیگر 640ہیں۔پولنگ مراکز کی تعداد8195رکھی گئی ہے۔


ذرائع کے مطابق، انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعہ منعقد ہوں گے۔ کابینہ کا اجلاس 18 جنوری کو میڈارم میں متوقع ہے جس میں انتخابی تواریخ پر حتمی مہر لگائی جائے گی۔ امکان ہے کہ رواں ماہ کے آخر تک نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا اور فروری کے دوسرے ہفتہ تک انتخابی عمل مکمل کر لیا جائے گا۔


ریاستی الیکشن کمیشن جلد ہی تمام کلکٹروں کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ انتظامات کا جائزہ لے گا تاکہ پولیس اور پولنگ عملہ کی تعیناتی کو یقینی بنایا جا سکے۔