مضامین

ملک کو کسی اور سے نہیں بی جے پی سے خطرہ؟ جنہیں جرم عشق پہ ناز تھا، وہ گنہگار چلے گئے

ایک ہندو جہدکار نے بڑے جذباتی انداز میں یہ کہا ہے کہ ایک فیصد والی سکھ، جین، بدھسٹ اور پارسی قوم کو جب کوئی خطرہ نہیں ہے تو 77 فیصد والی ہندو عوام کو کس سے خطرہ ہوسکتا ہے؟

ڈاکٹر شجاعت علی صوفی

متعلقہ خبریں
یکساں سیول کوڈ کو زبردستی مسلط نہیں کیا جاسکتا: مولانا محب اللہ ندوی
دھان کی خریداری میں دھاندلیوں کی سی بی آئی جانچ کروائے گی:بی جے پی
مودی کے خلاف توہین عدالت مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ: مشیر حکومت تلنگانہ
بی جے پی، خواتین کو دوسرے درجہ کا شہری سمجھتی ہے: راہول گاندھی (ویڈیو)
آخر پاکستان پر بات کیوں ہورہی ہے جب انتخابات ہندوستان میں ہورہے ہیں:پرینکا

سنجیدہ ہندوؤں کی اکثریت نے اب اپنی اپنی سطح پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو کوسنا شروع کردیا ہے۔ وہ اب کھلے عام یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک میں اگر کوئی خطرہ میں ہے تو وہ صرف بھارتیہ جنتا پارٹی ہے کیونکہ اس کے تمام سیاسی ہتھکنڈے بُری طرح ناکامی کا شکار ہوگئے ہیں۔

ایک ہندو جہدکار نے بڑے جذباتی انداز میں یہ کہا ہے کہ ایک فیصد والی سکھ، جین، بدھسٹ اور پارسی قوم کو جب کوئی خطرہ نہیں ہے تو 77 فیصد والی ہندو عوام کو کس سے خطرہ ہوسکتا ہے؟

ان کا یہ کہنا ہے کہ کچھ فرقہ پرست ہندو یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو Tight کردینا چاہئے۔ انہوں نے سوال کیا کہ انہیں کس طرح Tight کیا جاسکتا ہے۔ وہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔

مسلمانوں کی اکثریت نوکری پر انحصار نہیں کرتی۔ وہ تجارت یا پھر اجرتی ملازمت پر اپنا گزر بسر کرتی ہے۔ دستکاری میں ان کو مہارت ہے۔ مخصوص شعبوں کے ذریعہ وہ اپنا روزگار حاصل کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح عام ہندو سبزی بھاجی خریدتا ہے، اسی طرح عام مسلمان بھی یہی کام کرتا ہے۔ جو سڑک پر ہندو چلتا ہے اسی سڑک پر مسلمان بھی چلتے ہیں۔ کیا فرقہ پرست ہندوؤں کو ایل پی جی سلنڈر سستے دام میں ملتا ہے؟ نہیں۔ جو نرخ پر سامان ہندو بھائیوں کو ملتا ہے اسی نرخ پر یہ سامان مسلمانوں کو بھی ملتا ہے۔

جس طرح ہندو بھائی روزانہ ڈیڑھ دو ہزار روپے کی اجرت کمالیتے ہیں، اسی طرح مسلمان بھی ایسی ہی اجرت حاصل کرلیتے ہیں۔ جن ہندو نوجوانوں کو گمراہ کرکے ملک میں ہندو مسلم دنگے کروانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ یقیناً ناکام ہوگی۔ جذباتی نعرے غریبی کے مسائل کا حل نہیں ہے۔

دونوں ہی فرقوں میں غریب لوگ ہیں اور کسی نہ کسی طرح سے ان کا استحصال ہورہا ہے۔ یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ ہندوستان میں تعلیم کا اوسط بلندیوں کو چھورہا ہے۔ کسی زمانہ میں مسلمانوں کا تعلیمی تناسب بڑی مشکل سے 40 فیصد ہوا کرتا تھا، اب وہ بڑھ کر 69 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔

منظم ملازمتوں میں بھی مسلمان بہتر موقف میں ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ سنگھ پریوار کی کچھ تنظیمیں ملک میں ذات پات کے نام پر نراج پھیلانے کی کوشش کررہی ہیں۔ خاص طور پر اشتعال انگیز پروگراموں اور تقریروں کے ذریعہ یہ لوگ مسلمانوں کو تشویش میں مبتلا کررہے ہیں۔

مہاراشٹرا کو لے کر سپریم کورٹ نے نفرت انگیز تقریروں پر ایک بہترین رولنگ دی ہے جس کے مطابق ریاستی اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس طرح کے کوئی بھی واقعات پر ازخود قدم اٹھاکر مقدمات درج کریں۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو ان کا یہ قدم تحقیر عدالت کی تعریف میں آئے گا۔

اس زبردست ہتھیار کے باوجود ملک کے کچھ حصوں میں اشتعال انگیزی جاری ہے جس پر ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے جو ہمارے ملک کی سالمیت اور امن کے لئے کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔ حال ہی میں لنچنگ کے ایک معاملہ میں جھارکھنڈ کے ہائی کورٹ نے 10 ملزمین کو مجرم قرار دیتے ہوئے 10 سال کی قید بامشقت کی سزا سنائی ہے جس کی جتنی ستائش کی جائے کم ہے۔ جتنی سخت سزائیں ہوں گی، اس طرح کے واقعات میں اتنی ہی کمی ہوگی۔

ماہرین قانون اس بات کی خواہش کرتے ہیں کہ ایسے واقعات کی سرکوبی کے لئے خصوصی عدالتیں قائم کی جانی چاہئیں۔ عام عدالتوں میں یہ واقعات طول اختیار کرسکتے ہیں۔ ایسے واقعات میں سزا سرعت کے ساتھ صادر کی جانی چاہئے۔

اب وہ وقت آگیا ہے کہ بڑے پیمانے پر انتخابی اصلاحات انجام دیئے جائیں کیونکہ چناؤ کے دوران فرقہ پرست سیاسی جماعتیں ہندو۔ مسلم کا کھیل، کھیل کرووٹ بٹورتی ہیں۔ ان تمام سیاست دانوں کو انتخاب کے لئے نااہل قرار دیا جانا چاہئے جو تعجب اور اشتعال کو اپنا شعار بناتے ہیں۔

آبادی کے اعتبار سے ہمارا ملک دنیا میں نمبر ون بن گیا ہے اور ہماری تعداد 142 کروڑ کو تجاوز کرگئی ہے۔ اب جبکہ ہم آبادی کے معاملے میں آگے بڑھے ہیں تو ہمیں اخلاق، سیاسی، معاشی اور تعلیمی اعتبار سے بھی نمبر ایک ہونا چاہئے۔

اگر ہم ایسا نہیں کرتے ہیں تو ہماری حیثیت بھی آفریقی ممالک جیسی کمزور ہوجائے گی۔ دنیا کا ہر قابل شخص یہ مانتا ہے کہ ملک خارجی خطروں سے نہیں بلکہ داخلی خطروں سے تباہ وتاراج ہوجاتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی مبینہ گھناؤنی سیاست ہمارے ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

اگر بی جے پی قوم پرست ہے اور ملک کی ترقی کے معاملے میں سنجیدہ ہے تو اسے اپنی پالیسیوں اور پروگراموں کا جائزہ لینا پڑے گا۔ اب بھی وقت نہیں بگڑا بھارتیہ جنتا پارٹی اگر فرقہ پرست ایجنڈے کو چھوڑکر کوئی جامع معاشی ایجنڈے پر چلتی ہے تو یقیناً ملک کا بھلا ہوگا۔

فرقہ پرستی اقلیت ہی کو نہیں بلکہ اکثریت کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ ترقی کی سوئی رک جاتی ہے، حالات تھم جاتے ہیں۔ صورتحال میں نئی جولانی پیدا کرنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ عوام کے ہر فرقے اور طبقے کو ایک ساتھ لے کر آگے بڑھا جائے۔

آج کل ہر طرف یونیفارم سیول کوڈ کا چرچا ہے، مختلف فرقوں نے اپنے موقف کا اپنے اپنے ڈھنگ سے اظہار کردیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو ان فرقوں کے خیالات ذہن میں رکھ کر آگے بڑھنا ہوگا تاکہ ملک میں صحت مند فضاء پیدا کی جاسکے۔

کوئی بھی قوم، کوئی بھی ملک اسی وقت ترقی کرسکتا ہے جب قومی مسائل پر اس کی رائے میں یکسانیت ہو۔ کوئی بھی یک طرفہ فیصلہ ملک کو بھیانک نقصان پہنچاسکتا ہے۔ یونیفارم سیول کوڈ کا مسودہ سامنے آنے سے پہلے ہی اس موضوع پر قائم کی گئی پارلیمنٹری اسٹانڈنگ کمیٹی کے صدرنشین سشیل کمار مودی نے یہ کہہ دیا کہ 12 فیصد قبائلیوں کو یونیفارم سیول کوڈ سے باہر رکھا جائے، یعنی بی جے پی ابتدائی مرحلے میں ہی لڑکھڑا گئی ہے۔

سکھوں نے بھی اس کی شدت سے مخالفت کردی۔ مسلمان تو مخالف ہیں ہی، ہندو بھائیوں کی اکثریت بھی اس کی تائید میں نہیں ہے۔ یعنی اس موضوع پر اتفاق رائے پیدا ہی نہیں کیا گیا۔ مختصر یہ کہ آج کی ہماری جمہوریت عوام کی فلاح وبہبود کے لئے نہیں دکھائی دے رہی بلکہ ایک مخصوص سیاسی جماعت کے چناوی فائدوں کے لئے مختص ہوگئی ہے۔

چناؤ میں کامیاب ہوجانا کوئی بڑی بات نہیں ہے بلکہ ملک کو بام عروج پر پہنچانا کمال ہے۔ غربت کا دور ہونا، تعلیم کا عام ہونا، معیشت میں استحکام آنا، یہ وہ عوامل ہیں جس کے چلتے ملک کی پہچان بنتی ہے۔

نفرت کی سیاست کے خلاف راہول گاندھی کی جانب سے چلائی گئی مہم یقیناً ہمارے ملک میں ایک نیا رجحان پیدا کرچکی ہے یعنی نفرت پہ محبت کی سیاست۔ ملک کا ہر فرد بھارتیہ جنتا پارٹی سے یہی خواہش کرے گا کہ وہ نفرت کی سیاست کو ترک کرکے معیشت کی ترقی کی وکالت کرے تاکہ ملک کو ایک نیا نہج مل سکے۔

فرقہ پرستی سے وفا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ یہ سوچ بھارتیہ جنتا پارٹی کو بہت بڑا نقصان پہچنا سکتی ہے۔ اس رجحان سے دوری جتنا جلد ہوسکے بہتر ہے۔ اب عوام نے طئے کرلیا ہے کہ فرقہ پرست سیاست کو وہ قبول نہیں کریں گے۔ یعنی اس طرح کی سیاست کا خاتمہ بالکل قریب دکھائی دے رہا ہے۔

نہ رہا جنونِ وفا، یہ رسن یہ دار کرو گے کیا

جنہیں جرم عشق پہ ناز تھا، وہ گنہگار چلے گئے

a3w
a3w