ٹرمپ نے روس اور یوکرین کے درمیان تین دن کے لیے جنگ بندی کا اعلان کیا
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک ایک دوسرے پر یہ الزام لگا رہے تھے کہ پہلے کی جنگ بندی کے معاہدوں کی، خاص طور پر وکٹری ڈے کی تقریبات کے دوران ۔خلاف ورزی کی گئی۔
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان تین دن کے لیے جنگ بندی ہوگی، اور اس دوران دونوں ممالک ایک ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ بھی کریں گے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک ایک دوسرے پر یہ الزام لگا رہے تھے کہ پہلے کی جنگ بندی کے معاہدوں کی، خاص طور پر وکٹری ڈے کی تقریبات کے دوران ۔خلاف ورزی کی گئی۔
ٹرمپ نے کہا کہ اس جنگ بندی کے دوران ہر قسم کی فوجی کارروائی روک دی جائے گی اور قیدیوں کا بڑا تبادلہ بھی ہوگا، جو اس جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑے تبادلوں میں سے ایک ہوگا۔
روس کے صدارتی معاون یوری اُشاکوف نے بتایا کہ روس نے 9 مئی سے 11 مئی تک جنگ بندی اور یوکرین کے ساتھ “ایک ہزار کے بدلے ایک ہزار” قیدیوں کے تبادلے پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ عارضی جنگ بندی 9 مئی سے 11 مئی تک جاری رہے گی اور یہ امریکہ کی قیادت میں جاری سفارتی کوششوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد چار سال سے زیادہ عرصے سے جاری جنگ کو ختم کرنا ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زلنسکی نے بھی تصدیق کی کہ یوکرین اس جنگ بندی میں شامل ہوگا۔ روسی میڈیا کے مطابق ماسکو نے بھی اس تجویز کو قبول کر لیا ہے۔
یوری اُشاکوف کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ اور روس کے درمیان ٹیلی فون پر ہونے والی بات چیت کے بعد طے پایا، جبکہ امریکی نمائندے یوکرین سے بھی رابطے میں تھے۔
ٹرمپ نے کہا کہ یہ جنگ بندی ان کی ذاتی درخواست پر عمل میں آئی ہے، اور انہوں نے دونوں رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اس پر راضی ہوئے۔
دوسری طرف ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ یوکرین تنازع کے حل کے لیے ماسکو میں امریکی وفد بھی بھیج سکتے ہیں۔