مشرق وسطیٰ

شمالی اسرائیل میں دو ڈرون گر کر تباہ، کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں

ادھر امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع مفاہمتی یادداشت کے تناظر میں بھی خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ایران پہلے ہی اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ لبنان کی صورتحال کو کسی بھی ممکنہ معاہدے کا حصہ بنایا جانا چاہیے، جبکہ اسرائیل اس مؤقف کو مسترد کرتا آیا ہے۔

یروشلم: اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ الجلیل کے مغربی علاقے میں دو ڈرون طیاروں کو گرتے اور دھماکہ کرتے ہوئے دیکھا گیا، تاہم اس واقعے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

متعلقہ خبریں
کويت کی وزارتِ خزانہ اور آئل ریفائنری پر ڈرون حملے
جنگ بندی یا محض دکھاوا، غزہ، لبنان اور ایران میں حملے جاری
اسرائیلی حملہ میں لبنان میں 20 اور شمالی غزہ میں 17 جاں بحق
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جنگ بندی میں توسیع، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی


اسرائیلی ذرائع کے مطابق اتوار کے روز شمالی علاقوں میں سکیورٹی سائرن بجا دیے گئے تھے، کیونکہ لبنان کی جانب سے ڈرون طیاروں کی ممکنہ دراندازی کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔


رپورٹس کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران القسام بریگیڈز اور اس کی اتحادی قوتوں کے ڈرون طیاروں نے اسرائیل کے اندر مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔


دوسری جانب اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی ایتمار بن گویر نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لبنان سے داغے جانے والے ہر راکٹ یا ڈرون کے جواب میں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں کو نشانہ بنایا جانا چاہیے۔


یہ پیش رفت جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں اور لبنان و اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے، حالانکہ واشنگٹن میں دونوں فریقوں کے درمیان متعدد مذاکراتی ادوار ہو چکے ہیں۔


ادھر امریکہ اور ایران کے درمیان متوقع مفاہمتی یادداشت کے تناظر میں بھی خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ایران پہلے ہی اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ لبنان کی صورتحال کو کسی بھی ممکنہ معاہدے کا حصہ بنایا جانا چاہیے، جبکہ اسرائیل اس مؤقف کو مسترد کرتا آیا ہے۔


اسرائیلی ذرائع کے مطابق گرنے والے ڈرون لبنان سے داغے گئے تھے اور ان کا ہدف راس الناقورہ کے قریب فوجی تنصیبات تھیں۔


واضح رہے کہ لبنان میں جاری تنازع کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور اپریل میں اعلان کردہ جنگ بندی کے باوجود سرحدی کشیدگی اور فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔