اردو زبان بہت ہی شیریں اور سیکھنا نہایت آسان "سینیئر ایڈوکیٹ ارون کمار لاٹھکر "
کینسر سے زیادہ "حسد" انسانی زندگی کے لیے خطرناک -محفل عصرانہ سے پروفیسر مسعود احمد،منور حسین، سردار سلیم کا خطاب
کینسر سے زیادہ "حسد” انسانی زندگی کے لیے خطرناک -محفل عصرانہ سے پروفیسر مسعود احمد،منور حسین، سردار سلیم کا خطاب
حیدرآباد : (راست) سینئر ایڈوکیٹ ارون کمار لاٹھکر نے کہا کہ اردو بہت ہی شیریں و آسان زبان ہے اور اردو سیکھنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں میں نے 30 سال تک اپنے اردو دوستوں کے ساتھ زندگی گزاری ہے اور ان کے ہمراہ مشاعروں میں شرکت بھی کی ہے جس کی وجہ سے اردو زبان سے میری دلچسپی اور بھی بڑھ گئی ہے اب اردو دوستوں سے پہلے جیسا تعلق نہیں رہا سب کی اپنی مصروفیات ہونے کے باعث اردو دوستوں سے ملنے سے قاصر ہوں لیکن ان شاءاللہ اس عمر میں بھی اچھی طرح اردو سیکھنے کی میری مزید بڑی خواہش ہے
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان احمد حیدرآباد کے زیر اہتمام ہفتہ واری ادبی نشست” محفل عصرانہ” کی چھٹویں ادبی محفل کو خطاب کرتے ہوئے کیا جو رباط محبان اردو علی عبداللہ انکلیو ملک پیٹ میں منعقد ہوئی ادبی نشست اور شعری محفل کی صدارت ممتاز استاد سخن مخدوم ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر فاروق شکیل نے کی جناب ارون کمار نے بتایا کہ میرے والد کی تعلیم بھی اردو زبان میں ہوئی وہ مجھے اکثر اردو کے مشاعروں میں لے جایا کرتے تھے
انہوں نے کہا کہ پہلے تعلیمی سرٹیفکیٹس پر نظام کی تصویر ہوا کرتی تھی کتابیں اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی ہوا کرتی تھی انہوں نے صدر بزم احمد حسین جناب منور حسین کی سرپرستی میں اردو سے اپنی دلچسپی میں مزید اضافہ کرنے اور اردو زیادہ سے زیادہ سیکھنے کی خواہش کا بھی اظہار کیا
ادبی نشست اور شعری محفل کی نظامت ممتاز و معروف مزاحیہ و سنجیدہ شاعر جناب لطیف الدین لطیف نے کی داعی محفل پروفیسر مسعود احمد نے کہا کہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اپنے اظہار معافی الضمیر کے لیے اردو اشعار کا سہارا لینا پڑتا ہے انہوں نے ایک حالیہ تحقیق کا حوالہ دیاکہ کینسر سے زیادہ حسد ایک مہلک بیماری ہے اور حسد ہی کا نتیجہ ہوتا ہے کہ لوگ حسد کی وجہ سے ہی انتقال بھی کر جاتے ہیں موجودہ دور نفسا نفسی کا دور ہے میاں بیوی اور اور والدین کا اپنے بچوں سے تعلق کشیدہ ہوتا جا رہا ہے
ایسے حالات اور ماحول میں ہم اردو کی محفلیں سجاتے ہوئے اہلیان اردو کو ایک جگہ جمع ہونے اور کلام سننے سنانے کا موقع فراہم کر رہے ہیں جناب لطیف الدین لطیف نے محفل عصرانہ کو پروفیسر مسعود احمد کی اردو کے لیے مثبت و ثمرآور کوشش قرار دیا اور کہا کہ اس محفل کے انعقاد کے سبب ہر ہفتہ شعرا برادری کو یکجا ہونے کا موقع مل رہا ہے
مہمان خصوصی جناب منور حسین بانی و صدر بزم احمد حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماضی بعید نے ہر گھر میں اردو پڑھی اور بولی جاتی تھی انہوں نے کہا کہ پروفیسر مسعود احمد اردو کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں جو قابل ستائش ہیں انہوں نے ایڈوکیٹ ارون کمار لاٹھکر ایڈوکیٹ کی اردو دوستی کو بھی خراج تحسین پیش کیا استاد سخن جناب سردار سلیم نے کہا کہ پروفیسر مسعود احمد نے محفل کا اغاز کرتے ہیں اردو دنیا میں ایک نیا سنگ میل شروع کیا ہے اور پروفیسر مسعود نے شعرابرادری کے لیے ادبی رباط قائم کی ہے یہ ان کا تصور ہی نیا ہے مسافر شعرا کو ٹھہرانے کے لیے جو انتظام کیا گیا ہے وہ قابل قدر اور قابل تحسین ہے شہر کے منتخب شعرا کرام ڈاکٹر فاروق شکیل، سردار سلیم، فرید سحر، پروفیسر مسعود احمد، سید جنید اللہ حسینی جنید، لطیف الدین لطیف، ثنا اللہ انصاری وصفی، جہانگیر قیاس،سلیمان صدیقی اعتبار، سہیل عظیم نے کلام سنایا معاون کنوینر جناب حسام الدین ریاض نے سبھی کا شکریہ ادا کیا اس موقع پر جناب محمد عیسی شریف ریٹائرڈ چیف مینجر ایس بی ائی،جناب سید مہدی علی،جناب اصف علی روبی ٹی وی،جناب پریم آنند سوگندی،جناب مجتبی عابدی صدر اردو کونسل،پرویز حسنین جگنو محمد اسمعیل احمداور دیگر معززین موجود تھے