راہول گاندھی کی گرفتاری آئین اور جمہوریت کی توہین ہے
اس موقع پر رکن اسمبلی نائنی راجندر ریڈی، ناگ راجو اور کانگریس کے متعدد عوامی نمائندے اور پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔
ہنمکنڈہ : تلنگانہ کے نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرمارک نے بدھ کے روز لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر کانگریس رہنماؤں کی گرفتاری کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے "آئین اور جمہوریت کی توہین” قرار دیا۔
مسٹر بھٹی وکرمارک نے نئی دہلی میں نیٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ پولیس کارروائی کے خلاف وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب احتجاج کرنے والے کانگریس رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف ہنمکنڈہ سینٹر میں ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمے کے سامنے دھرنا دیا۔
احتجاج سے قبل رہنماؤں نے آئینِ ہند کے معمار ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمے پر گلپوشی کی اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر رکن اسمبلی نائنی راجندر ریڈی، ناگ راجو اور کانگریس کے متعدد عوامی نمائندے اور پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر وکرمارک نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت نے طلبہ کے خدشات دور کرنے کے بجائے اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لے کر "آمرانہ طرزِ عمل” اختیار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیٹ کے مبینہ پرچہ لیک معاملے نے کروڑوں طلبہ کے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا ہے اور انہوں نے پُرامن احتجاج کرنے والی طالبات سمیت دیگر طلبہ پر مبینہ پولیس لاٹھی چارج کی بھی مذمت کی۔
نائب وزیر اعلیٰ نے نیٹ پرچہ لیک معاملے کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے مودی حکومت پر اپوزیشن رہنماؤں کو نشانہ بنا کر اختلافِ رائے کو دبانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ نہ پولیس کارروائی اور نہ ہی گرفتاریاں طلبہ کی آواز کو خاموش کر سکتی ہیں اور نہ ہی تعلیمی نظام کے تحفظ کے لیے راہل گاندھی کی مہم کو روک سکتی ہیں۔