حیدرآباد

کوتہ پیٹ چوراہے پر ٹریفک کانسٹیبل پر پتھر سے حملہ، نوجوان گرفتار

حیدرآباد کے کوتہ پیٹ چوراہے پر ڈیوٹی انجام دے رہے ایک ٹریفک کانسٹیبل پر ایک نوجوان نے اچانک پتھر سے حملہ کیا۔ مقامی افراد نے حملہ آور کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کردیا۔ سارور نگر پولیس نے مقدمہ درج کرکے سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر تحقیقات شروع کردی ہیں۔

حیدرآباد میں ایک افسوسناک واقعہ اس وقت سامنے آیا جب کوتہ پیٹ چوراہے پر ٹریفک کی نگرانی میں مصروف ایک ٹریفک کانسٹیبل پر ایک نوجوان نے پتھر سے حملہ کر دیا۔ یہ واقعہ سرور نگر پولیس اسٹیشن کی حدود میں پیش آیا اور کچھ وقت بعد منظر عام پر آیا۔

متعلقہ خبریں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
تلنگانہ:مصیبت میں گھرے افراد کی بروقت مدد۔غیر معمولی خدمات پر کانسٹیبل شراون کمارکو باوقارراشٹرپتی جیون رکشاپدک
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات
جماعتِ اسلامی ہند گریٹر حیدرآباد ویمنز ونگ کے زیرِ اہتمام صحافیوں اور این جی اوز کا اجلاس

بحث جھگڑے میں تبدیل، نوجوان کا اچانک حملہ

اطلاعات کے مطابق ٹریفک کانسٹیبل اور نوجوان کے درمیان معمولی بات چیت جھگڑے میں بدل گئی۔ معاملہ ہاتھا پائی تک نہ پہنچا تھا کہ نوجوان نے اچانک پتھر اٹھا کر کانسٹیبل پر وار کردیا۔

حملے کے فوراً بعد نوجوان وہاں سے بھاگنے لگا، تاہم موقع پر موجود شہریوں نے اس کا پیچھا کرکے اسے قابو میں کرلیا اور پولیس کے حوالے کردیا۔

فون ٹوٹنے کے الزام پر حملہ کیا، نوجوان کا دعویٰ

پولیس کی ابتدائی پوچھ گچھ میں نوجوان نے دعویٰ کیا کہ کانسٹیبل نے اُس کا موبائل فون توڑ دیا تھا، جس پر غصّے میں آکر اُس نے حملہ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس الزام کی سچائی کی جانچ کی جا رہی ہے۔

کانسٹیبل کو معمولی زخم، سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ جاری

حملے میں ٹریفک کانسٹیبل کو معمولی زخم آئے ہیں۔ سرور نگر پولیس نے معاملے کا مقدمہ درج کرکے تفصیلی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ پولیس چوراہے پر موجود سی سی ٹی وی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ واقعے کی اصل تصویر سامنے آسکے۔

مزید تفصیلات تحقیقات کے بعد سامنے آئیں گی

پولیس کے مطابق معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں نوجوان کا الزام اور واقعے سے پہلے کی صورتحال شامل ہیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔