دہلی

بادی النظر میں ’ طلاق احسن‘ غیر معقول نہیں لگتا: سپریم کورٹ

جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس ایم ایم سندریش کی بینچ اس رواج کی جوازیت کو چیلنج کرنے والی بے نظیر حنا کی درخواست پر زبانی طور پر کہا کہ بادی النظر میں یہ (طلاق حسن) اتنی غیر معقول نہیں ہے۔ خواتین کے پاس ’خلع‘ کا اختیار ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو کہا کہ مسلمانوں میں بادی النظر طلاق کے لیے ’طلاق احسن‘ کا رواج غیر معقول نہیں لگتا۔ جسٹس سنجے کشن کول اور جسٹس ایم ایم سندریش کی بینچ اس رواج کی جوازیت کو چیلنج کرنے والی بے نظیر حنا کی درخواست پر زبانی طور پر کہا کہ بادی النظر میں یہ (طلاق حسن) اتنی غیر معقول نہیں ہے۔ خواتین کے پاس ’خلع‘ کا اختیار ہے۔

اسلام میں ’طلاق احسن‘ میں بیوی کے لئے تین مہینے کی مدت میں ایک مسلم شخص کی جانب سے مہینے میں ایک بار (طہر میں) ’طلاق‘ دی جاتی ہے۔ اگر اس مدت کے دوران جسمانی تعلق دوبارہ قائم نہ کیا جائے تو تیسرے مہینے میں تیسری طلاق کے بعد طلاق کو باضابطہ شکل دی جاتی ہے۔

اگر پہلی یا دوسری طلاق دینے کے بعد جسمانی تعلق دوبارہ قائم ہو جاتے ہیں، تو سمجھا جاتا ہے کہ متعلقہ فریقین میں صلح ہوگئی ہے۔ پہلی ’طلاق‘ کہنا بے معنی سمجھا جاتا ہے۔

اسی طرح ’خلع‘ ایک ایسا عمل ہے جو ایک مسلمان عورت نے مہر یا کوئی اور چیز اپنے شوہر سے حاصل کی تھی یا شوہر اور بیوی کے درمیان سمجھوتے کے مطابق ہو، کچھ بھی لوٹائے بغیر شوہر کو طلاق دینے کی اجازت دیتی ہے۔

غازی آباد کی رہائشی حنا نے ’طلاق احسن‘ کا شکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے اس کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا تھا۔ اس درخواست پر سماعت کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ وہ عرضی گزار سے متفق نہیں ہے۔ جسٹس کول نے کہا کہ بادی النظر میں میں درخواست گزاروں سے متفق نہیں ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ یہ کسی اور وجہ سے ایجنڈا بنے‘‘۔

سپریم کورٹ نے ’طلاق احسن‘ کے معاملے پر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں دیا ہے لیکن درخواست گزار کے وکیل کی درخواست پر اس معاملے میں مزید سماعت کے لیے 29 اگست کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

حنا نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ عمل بہت سی خواتین اور ان کے بچوں کے لیے تباہ کن ہے، خاص طور پر وہ خواتین جو معاشرے کے کمزور معاشی طبقات سے تعلق رکھتی ہیں۔

a3w
a3w