دہلی

دہلی پولیس نے ’مَیول اکاؤنٹس‘ فراہم کرنے والے گروہ کو بے نقاب کیا، 10 افراد گرفتار

پولیس کے مطابق یہ معاملہ سائبر فراڈ کی ایک شکایت کی تفتیش کے دوران سامنے آیا، جس میں کیرالہ کے ایک متاثرہ شخص سے مبینہ طور پر دو لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کا پتہ ایک نجی بینک میں کھولے گئے ’’مَیول بینک اکاؤنٹ‘‘ سے چلا۔ اس کے بعد رقم کی ٹریسنگ اور تکنیکی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایک بڑا نیٹ ورک سرگرم ہے جو سائبر مجرموں کو غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی رقم وصول کرنے اور منتقل کرنے کے لیے بینک اکاؤنٹس فراہم کرتا ہے۔

نئی دہلی: مشرقی دہلی پولیس نے منظم سائبر جرائم کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ’’مَیول اکاؤنٹس‘‘ (جعلی بینک اکاؤنٹس) فراہم کرنے والے ایک منظم گروہ کو بے نقاب کیا ہے اور 10 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ ان افراد پر ملک بھر میں سرگرم سائبر مجرموں کو بینک اکاؤنٹس فراہم کرنے کا الزام ہے۔

متعلقہ خبریں
دہلی پولیس کو کانگریس ورکرس کو ہراسانی سے روکا جائے:دیویندر یادو
دہلی پولیس کی کارروائی کے خلاف کانگریس ہائیکورٹ سے رجوع
نیوز کلک کیس، دہلی پولیس کی چارج شیٹ
جعلی ویزا کیس میں بنگلورو ایرپورٹ سے ایک شخص گرفتار
درگاہ نظام الدین کے قریب غیرمجاز تعمیرات روک دینے کی ہدایت


گرفتار ملزمان کے نام وجے کمار (31)، پردیپ کمار (42)، یتندر کمار (23)، مکیش (24)، وینیش (37)، گرباج سنگھ (27)، امن (27)، سورج یادو (24)، گورو نہار (22) اور لکشمن (33) ہیں۔


اس گروہ پر آن لائن فراڈ سے حاصل کی گئی رقم کو وصول کرنے اور اسے مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے آگے منتقل کرنے کے لیے بینک اکاؤنٹس استعمال کرنے کا الزام ہے۔ کارروائی کے دوران پولیس نے 11 پی او ایس (پوائنٹ آف سیل) مشینیں، 27 چیک بکس، 17 اے ٹی ایم کارڈز اور 12 موبائل فون برآمد کیے۔


پولیس کے ڈپٹی کمشنر (مشرق) راجیو کمار نے کہا کہ مشرقی ضلع پولیس منظم سائبر کرائم نیٹ ورک کے خلاف سخت کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اپنا بینک اکاؤنٹ، اے ٹی ایم کارڈ یا بینکنگ پاس ورڈ اور پن کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں، نہ فروخت کریں اور نہ ہی کسی اور کو استعمال کرنے دیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی سرگرمیوں سے سائبر فراڈ ہو سکتا ہے اور قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


پولیس کے مطابق یہ معاملہ سائبر فراڈ کی ایک شکایت کی تفتیش کے دوران سامنے آیا، جس میں کیرالہ کے ایک متاثرہ شخص سے مبینہ طور پر دو لاکھ روپے کی دھوکہ دہی کا پتہ ایک نجی بینک میں کھولے گئے ’’مَیول بینک اکاؤنٹ‘‘ سے چلا۔ اس کے بعد رقم کی ٹریسنگ اور تکنیکی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ایک بڑا نیٹ ورک سرگرم ہے جو سائبر مجرموں کو غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی رقم وصول کرنے اور منتقل کرنے کے لیے بینک اکاؤنٹس فراہم کرتا ہے۔


مشرقی ضلع پولیس کی ایک خصوصی سائبر ٹیم نے اے سی پی پون کمار کی نگرانی میں بڑے پیمانے پر مالی اور تکنیکی تجزیہ، موبائل فون کی جانچ اور فیلڈ ویریفکیشن کے بعد اس منظم ریکیٹ کا پردہ فاش کیا۔


پولیس نے بتایا کہ ملزمان مبینہ طور پر نوکری کے جھوٹے آفرز اور پیسوں کے لالچ کے ذریعے بے روزگار اور معاشی طور پر کمزور افراد کو نشانہ بناتے تھے۔ ان سے بینک اکاؤنٹس کھلوا کر بعد میں اکاؤنٹ کی تفصیلات، اے ٹی ایم کارڈز، چیک بکس، رجسٹرڈ موبائل نمبر اور انٹرنیٹ بینکنگ کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیتے تھے اور پھر انہیں مختلف ریاستوں میں سائبر مجرموں کو فراہم کرتے تھے۔


الزام ہے کہ اس گروہ نے دھوکہ دہی سے حاصل شدہ رقم کی منتقلی اور نکالنے کے لیے پی او ایس مشینوں، اے ٹی ایم کارڈز، چیک بکس اور موبائل فون کا استعمال کیا اور اصل مستفید ہونے والوں کی شناخت چھپانے کی کوشش کی۔