ٹرینڈنگ

گنیش منڈپ کے روبرو موسیقی پر تھرکتی حجابی لڑکیاں! (منصف کا چشم کشا اداریہ)

ان لڑکیوں سے زیادہ‘ ان کے والدین کا قصورہے جنہوں نے درس گاہوں کے انتخاب میں کوتاہی کی اور ایسے اداروں کا انتخاب کیا جہاں نصابی تعلیم تو اچھی دی جاتی ہے مگر ان کے بچوں کے ایمان پر کاری ضرب بھی پڑتی ہے۔

حیدرآبادی مسلمان اس بات پر فخر کیا کرتے تھے کہ ان کے ہاں دینداری اور دنیا داری میں ایک توازن برقرار ہے۔ وہ جہاں دین کے احکام پر سختی سے عمل پیرا ہیں وہیں وہ عصری علوم کے حصول میں بھی ملک کے دیگر حصوں میں بسنے والے مسلمانوں سے پیچھے نہیں ہیں۔

ہماری بیٹیاں‘ حجاب پہننے میں عار محسوس نہیں کرتیں اور نہ ہی انہیں اس سے روکنے کی کوئی جرأت کرسکتا ہے۔ صلوٰۃ‘ زکوٰۃ‘ روزوں کی پابندی اور حج و عمرہ کی ادائی اور مذہبی تنظیموں کو فراخ دلانہ عطیات دے کر ہم یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ہمارے گھرانے دین دار بن گئے ہیں۔

ہم میں سے اکثر تو احکام اسلامی کے پابند ہوگئے مگر اپنی اولادوں کو دین کا پابند بنانے کی بجائے انہیں بہتر سے بہتر آسائشیں فراہم کرنے کو ہی فرائض پدری سمجھ بیٹھے ہیں اور ان کو دینی تعلیم سے آراستہ کرنے کے اہم فریضہ کو فراموش کربیٹھے ہیں۔

مسلم گھروں سے مستورات کے باپردہ نکلتا دیکھ کر ہم بھی اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ حیدرآبادی مسلمانوں میں ہنوز دین داری برقرار ہے مگر کل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا گیا کہ کئی حجابی بنات حوا‘ گنیش منڈپ کے روبرو موسیقی کی تھاپ پر نہ صرف تھرک رہی ہیں بلکہ بڑی ہی بے شرمی سے ہیجان انگیز رقص کررہی ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ ریتی باؤلی میں واقع سندھو ویمنس کالج کے دامن میں گنیش منڈپ قائم کیا گیا جس میں شائد مذکورہ کالج کی طالبات نے حصہ لیا‘ ہندو طالبات کے ساتھ مل کر ہماری بچیوں نے بھی موسیقی کی دھنوں پر رقص کیا‘ جنہیں دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ انہیں شائد رقص کرنے کی ان کی دبی ہوئی آرزو پوری کرنے کا موقع ملا ہے۔

ان لڑکیوں سے زیادہ‘ ان کے والدین کا قصورہے جنہوں نے درس گاہوں کے انتخاب میں کوتاہی کی اور ایسے اداروں کا انتخاب کیا جہاں نصابی تعلیم تو اچھی دی جاتی ہے مگر ان کے بچوں کے ایمان پر کاری ضرب بھی پڑتی ہے۔

ان والدین کو یہ اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ جن تعلیمی اداروں میں دین کا ماحول نہ ہو اور جہاں صرف مادہ پرستی کو فوقیت دی جاتی ہے وہاں تعلیم پانے والے بچے اپنے والدین کی بھی قدر نہیں کرپائیں گے۔خود غرضی اور مادہ پرستی کا شکار ہوکر ممکن ہے ایسے بچے اپنی پسند سے ہی اپنا شریک سفر ڈھونڈھ لیں اور اس وقت ان والدین کے ہوش ٹھکانے آئیں‘ مگر کچھ ایسے بھی والدین ہوں گے جو اپنی بیٹی کو معصوم گردانتے ہوئے اسے بھگا لے جانے والے کو بددعائیں دیتے رہیں گے۔

آج یہ صورت حال ہے تو سوچیں ان بچیوں کے گہواروں میں پرورش پانے والی نسل کا کیا حشر ہوگا؟ ہم نے اپنے بچوں کی دینی تربیت پر زیادہ دھیان ہی نہیں دیا اور یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ بیٹیوں کے جسم پر عبایہ ڈال دینے سے ان کے دلوں میں دین جاگزیں ہوجائے گا جب کہ سڑکوں پر یہ مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں کہ سیاہ برقع کے اندر سے جیئنس پیئنٹ جھانک رہا ہوتا ہے۔

ایک اسلامی عصری اسکول کے انتظامیہ نے بتایا کہ ان کے ہاں تدریس کے لئے انٹرویو دینے جتنی مسلم لڑکیاں آرہی ہیں ان سے جب بات چیت کی جاتی ہے تو یہ عقدہ کھلتا ہے کہ وہ اپنے سبجیکٹ میں تو ماہر ہوتی ہیں مگر ان میں اکثر کو قرآن مجید کی ایک سورہ تک یاد نہیں۔ کبھی ہم نے غور کیا ہے کہ ایسے لوگ کب تک موحد باقی رہیں گے۔

اغیار کی تھوڑی سی کوشش سے یہ مرتد بن جائیں گے اور آنے والے دنوں میں امت داعیہ‘ شرک و کفر کی مدعو امت بن جائے گی اور اس وقت بھی کچھ ہوں گے جو اسلام ترک کرتے ہوئے یہ استدلال پیش کریں گے کہ جان ہے تو جہان ہے۔ اولاد کو دین کی صحیح تربیت دی جاتی اور ان میں وحدت ربوبیت کو راسخ کردیا جاتا تو اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کرنے والی ہماری نسل‘ اغیار کے اثرات قبول کرنے کی بجائے بڑی ہی حکمت سے اپنے فریضہئ دعوۃ الی اللہ کو انجام دیتیں۔

تاریخ نے وہ دور بھی دیکھا ہے کہ جن مسلم عورتوں کو منگولوں نے زبردستی اپنی بیوی بناکر اپنے حرم میں داخل کرلیا تھا انہوں نے وہاں بھی اپنے داعیانہ کردار کو فراموش نہیں کیا اور ان تاتاریوں سے پیدا ہونے والے بچوں کی اس انداز میں تربیت کی تھی کہ نہ صرف ان کی گود میں پرورش پانے والے شہزادے بلکہ کئی تاتاری قبائیل حلقہ بگوش اسلام ہوتے چلے گئے۔

اسلامی اسکولس میں اپنے بچوں کو تعلیم دلانے والے والدین نے جب کالج کی تعلیم کے لئے کچھ نامور اداروں میں اپنے بچوں کو شریک کروایا تو چند ہی دن میں ان کے بچوں نے ان اداروں میں پائی جانے والی خباثتوں کا تذکرہ اپنے والدین سے کیا‘ وہ بھی اس لئے کہ ان کی تربیت کچھ اس انداز میں کی گئی تھی کہ وہ برائی کی طرف لپک نہ پائے۔ ان والدین نے اپنے بچوں کے تاثرات سن کر فوری ان کالجوں سے اپنے بچوں کو نکلوالیا اور مسلم انتظامیہ کے کالجوں میں شریک کروادیا۔

اگر ہم اب بھی صورت حال کو نہیں سمجھ پائیں گے اور اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ نہیں دیں گے تو وہ دن دور نہیں جب ہماری حجابی لڑکیاں ارتداد کی راہ اپناتے ہوئے اپنا ایمان تو کھودیں گی ساتھ ہی غیر مسلموں سے بیاہ کرکے اپنے بطن سے پیدا ہونے والی اولادوں کو بھی شرک کا دلدادہ بنائیں گی اور خود بھی جہنم کی آگ کا ایندھن بنیں گی اور اپنی اولاد کو بھی بنائے گی۔اپنی اولادوں کو جہنم کا ایندھن بنانے سے بہتر ہے کہ انہیں جدید علوم سے بے بہرہ ہی رکھا جائے۔ ہم ایسے تعلیمی اداروں کو انتخاب کریں جہاں ہمارے بچوں کا دین بھی محفوظ رہے اور وہ عصری تعلیم میں بھی آگے بڑھیں۔