ظالم کے مال سے اپنا حق وصول کرنا
جھوٹ اور دھوکہ دہی کبیرہ گناہوں میں سے ہے ، اور حتی المقدور اس سے اجتناب واجب ہے ، اس لیے بہتر تو یہی ہے کہ آپ صبرسے کام لیں، اور اپنا حق اللہ کے پاس ہی وصول کریں ،

سوال:- میں سعودی عرب میں ایک دوکان میں ملازم ہوں ، وہاں سے ہر دوسال میں ایک بار گھر آنے کا موقع ملتا ہے ، اور گھر آنے کا خرچ بھی دیا جاتا ہے ، میں چھ سال بعد ہندوستان آیا ،لیکن مجھے کفیل کی جانب سے وہ روپیہ نہیں دیا گیا ، جو ہر دوسال میں ہندوستان آنے والوں کو کرایہ مع تنخواہ دیا جاتا ہے ،
اور میری تنخواہ بھی سعودی عرب کے قانون کے اعتبار سے بہت کم ہے ، اگر میں اس دکان میں کچھ الٹ پھیر کر کے اپنے حق کے بقدر حاصل کر لوں تو کیا میرے لیے یہ بات جائز ہے ؟ (شمیم اختر، بارکس)
جواب:- جھوٹ اور دھوکہ دہی کبیرہ گناہوں میں سے ہے ، اور حتی المقدور اس سے اجتناب واجب ہے ، اس لیے بہتر تو یہی ہے کہ آپ صبرسے کام لیں، اور اپنا حق اللہ کے پاس ہی وصول کریں ،تاہم اگر آپ کا اس سے یہ معاہدہ تھا کہ چاہے میں ہر دو سال میں گھر نہ جاؤں ،
لیکن مجھے اس مدت پر ایک کرایہ آمد و رفت مع تنخواہ ملاکرے گا ، تو کفیل پر اس وعدہ کو وفاء کرنا واجب ہے ، ایسی صورت میں آپ کے لیے دکان سے صرف اتنی ہی رقم حاصل کرنے کی گنجائش ہے ، اس کو فقہ کی اصطلاح میں ’’ ظفر بالحق ‘‘ کہا جاتا ہے ،
یعنی اگر کسی شخص کے ذمہ آپ کا کچھ باقی ہے اور وہ ادا نہیں کرتا تو اس بات کی گنجائش ہے کہ اگر اس کا مال کسی طریقہ پر آپ کے پاس آجائے تو آپ اس میں سے اپنا حق وصول کرلیں،حضرت ہندہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے شوہر حضرت ابو سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شکایت کی کہ وہ اخراجات میں بخل سے کام لیتے ہیں ،تو کیا میرے لیے ان کی اجازت کے بغیر ان کے مال میں سے کچھ لینے کی اجازت ہے ؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس قدر لے سکتی ہو جو تم کو اور تمہارے بچوںکو کافی ہوجائے۔
’’ ما یکفیک و ولدک ‘‘ (بخاری، حدیث نمبر: ۵۳۶۴) اس حدیث سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص صاحب حق کو اس کا حق ادا نہ کرے تو اپنے حق کے بقدر اس کے لیے لینا جائز ہے۔