مضامین

دفاتر میں لڑکیوں کو رکھنا فیشن بن گیا

جہاں تک عورت کا معاشی میدان میں نکلنے کا تعلق ہے یہ حقیقت ماننی پڑے گی کہ بہت کم تعداد ان خواتین کی ہے جو شوق سے مزدوری کرتی ہیں بلکہ بہت سی مجبوریاں ، لاچاریاں اور پریشانیاں ہوتی ہیں جو عورت کو محنت مزدوری اختیار کرنے پر آمادہ کرتی ہیں ۔

ماہم طارق

متعلقہ خبریں
مستقبل کی مائیں:اپنی صحت کا خیال رکھیں
ایک ہونہار لڑکی جسے’’جہیز‘‘ نے مار دیا
چائے ہوجائے!،خواتین زیادہ چائے پیتی ہیں یا مرد؟
افضل انصاری اور بیٹی نصرت نے پرچہ نامزدگی داخل کیا
ٹیپو سلطان نے بیٹی بچاﺅ، بیٹی پڑھاﺅ کا عملی نمونہ پیش کیا تھا

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عورت کو ماں ، بیٹی ، بہن ، بہو اور بیوی کے روپ میں اہم کردار ادا کرنا پڑتا ہے ۔ آج کے دور میں اسے معاشی کفالت میںشوہر کا ساتھ بھی دینا پڑتا ہے ۔ اسلام نے عورتوں کا اصل مقام ان کا گھر ٹھہرایا مگر اس پر پابندی عائد نہیں کی کہ وہ ضرورت کے تحت بھی باہر نہیں جاسکتی بلکہ ضرورت کے تحت وہ گھر سے باہر جاسکتی ہے۔

جہاں تک عورت کا معاشی میدان میں نکلنے کا تعلق ہے یہ حقیقت ماننی پڑے گی کہ بہت کم تعداد ان خواتین کی ہے جو شوق سے مزدوری کرتی ہیں بلکہ بہت سی  مجبوریاں ، لاچاریاں اور پریشانیاں ہوتی ہیں جو عورت کو محنت مزدوری اختیار کرنے پر آمادہ کرتی ہیں ۔

کئی وجوہات ہیں جو عورت کو گھر سے باہر معاشی میدان میں بھی حصہ لینے پر مجبور کرتی ہیں مثلاً موجودہ دور میں مہنگائی کی وجہ سے عورت کام کرنے پر مجبور ہے ۔ ایک مرد دس افرادپر مشتمل کنبہ کو پالتا ہے اس صورت میں آسائشات تو درکنار بنیادی ضروریات زندگی کی دستیابی بھی مشکل سے ہوتی ہے ۔

 چنانچہ اکثر گھر میںعورتیں پڑھی لکھی ہوں یا کوئی ہنر جانتی ہوں تو ان کو مردوں کے لیے Helping Handبننا پڑتا ہے تاکہ پورا خاندان خوشحال اور اچھی زندگی گزار سکے۔

مغربی تقلید میں سرگرداں نوجوان طبقہ دفاتر میں بڑھتی ہوئی لڑکیوں کی تعداد کو دیکھ کر نئے رجحانات میں مبتلا نظر آرہا ہے ۔ اب لڑکے بن رہے ہیں مزید سجیلے… فیشن پر زیادہ خرچ کررہے ہیں اور سب سے زیادہ چونکا نے والی بات یہ ہے کہ میک اپ کے معاملے میں تو انہو ںنے لڑکیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔

ایک طرف لڑکیاں ہیں جو نوکری کرکے اپنے پرس بھرنے میں مصروف ہیں تو دوسری جانب وہ لڑکے ہیں جو آفس  میں کام کرنے والی لڑکیوں پر امپریشن مارنے یعنی دل جیتنے کے لیے اپنی جیب ڈھیلی کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔

ایک سروےکے مطابق دفاتر میں لڑکیوں کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے مردوں پر مشتمل نوجوان طبقہ اپنی خوبصورتی ، مہنگے کپڑے اورموبائل پر زیادہ خرچ کرنے لگے ہیں ۔ یہ سن کر تو شاید آپ چونک ہی جائیں کہ لڑکیوں کے مقابلے اب لڑکے بیوٹی مصوعات میں زیادہ خرچ کرنے لگے ہیں ۔

ایک سروے کے تحت مختلف نوجوانوں سے کاسمیٹکس ، کپڑوں اور موبائل فونس پر ان کے خرچ کے بارےمیں پوچھا گیا جس میں شامل  75 فیصدنوجوانوں نے تسلیم کرلیاکہ گزشتہ دس سال میںکاسمیٹکس پر ان کاخرچ 65فیصد بڑھ گیا ہے ۔

 اسی طرح تقریباً 58فیصد نوجوانوں کا کہنا تھاکہ ان کا افزائش حسن پر مشتمل اشیا یعنی کاسمیٹکس پر خرچ بھی 65فیصد تک بڑھ گیا ہے جب کہ یہ خرچہ کسی وجہ سے نہیں بلکہ دفتر میں ساتھ کام کرنے والی لڑکیوں کی موجودگی کے سبب بڑھا ہے ۔

اس رپورٹ کے مطابق بیوٹی مصنوعات ، مہنگے موبائل اور برانڈیڈ کپڑے 2003ء میں نوجوانوں کا ان تین چیزوں پر اوسط خرچ ہر مہینے محض ڈیڑھ ہزار روپئے تھا جب کہ 2013ء تک اس میں 300فیصد سے بھی زیادہ اضافے کے ساتھ چھ ہزار روپئے سے بھی زیادہ ہوگیا ۔

بعض مرد خواتین کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش شروع کردیتے ہیں ۔ مسلم معاشرے کے علاوہ یہ مسئلہ مغربی ممالک میں بھی درپیش ہے ۔ اس مسئلے کاحل اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ معاشرے میں ایک دوسرے کے حقوق کا شعورپیدا کیا جائے اور جنسی طورپر ہراساں کرنے کے بارے میں سخت قانون سازی کرکے اس پر صحیح معنوں میں عمل درآمد بھی کیا جائے ۔

اگرچہ اس تبدیلی سے چند مسائل پیدا ہورہے ہیں لیکن بحیثیت مجموعی یہ تبدیلی مثبت ہے ۔ معاشرے کا نصف حصہ جو پہلے معاشرے کی ترقی کے لیے دینی صلاحیت سے بہت کم کردار ادا کیا کرتا تھا، اب اس میں پہلےکی نسبت زیادہ حصہ لے رہاہے ۔

دین اسلام میں خواتین کے روزگار کمانے پر کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی البتہ مردوں پر ذمے داری عائد کی گئی ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے نان نفقے کا بندوبست کریں۔

قومی ترقی کے لیے کیا عورتوں کا ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا ناگزیر ہے ؟ اس اہم سوال کاجواب ’’ ہاں‘‘ میں دینابے حدمشکل ہے ۔ اگر عورت اپنے مخصوص خاندانی فرائض کو نظر انداز کرکے زندگی کے ہر میدان میں شرکت کرے گی تو خاندانی ادارہ عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا

اور خاندانی ادارے کے عدم استحکام میں آنے کے منفی اثرات زندگی کے دیگر شعبہ جات پر بھی پڑیں گے۔ مغرب میں یہ نتائج رونما ہوچکے ہیں ۔اکیسویں صدی میں انسانی تہذیب کا جن فتنوں کا سامنا کرنا پڑے گا ان میں تحریک آزادی نسواں کا فتنہ اپنے وسیع تر اثرات اور تبا ہ کاریوں کی بنا پر سب سے بڑا فتنہ ہے ۔

 مغرب میں عورتوں کو زندگی کے مختلف شعبہ جات میں جس تناسب اور شرح سے شریک کرلیا گیاہے اگر یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو دنیا ترقی کی موجودہ رفتار کو ہرگز برقرار نہیں رکھ سکے گی بلکہ اگلے پچاس سالوں میں انسانی دنیا زوال اور انتشار میں مبتلا ہوجائے گی ۔

جو لوگ عورت اور ترقی کوباہم لازم و ملزوم سمجھتے ہیں انہیں یہ پیش گوئی کسی شریف النفس انسان کی بڑ ، رجعت پسندی اور غیر حقیقت پسندانہ بات معلوم ہوگی لیکن اکیسویں صدی کے آغاز پر انسانیت جس سمت میں رواں دواں ہے ، بالآخر اس کی منزل یہی ہوگی۔ ہندوستان سمیت دیگر ممالک کو اس حقیقت کا ادراک کرلینا چاہیے کہ مغرب کی اندھی تقلید میں خاندانی اداروں کو تباہ کرلینے کے باوجود وہ ان کی طرح مادی ترقی کی منزلیں طے نہیں کرسکتے۔

مزید برآں مغربی ممالک کی سائنسی و صنعتی ترقی کلیتاً عورتوں کی شرکت کی مرہون منت نہیں ہے ۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ برطانیہ، فرانس ، جرمنی ، ہالینڈ ، پرتگال، اسپین اور دیگر یورپی ممالک اس وقت بھی سائنسی ترقی کے قابل رشک مدارج طے کرچکے تھے جب ان ممالک میں عورتوں کو ووٹ دینے کا حق نہیں ملا تھا۔

سوویت یونین کے آخری صدر ’میخائل گوربا چیو‘ (Mikhail Sergeyevich Gorbachev,1931)نے اپنی کتاب Perestroika میں عورتوں کے بارے میں ایک باب Status of Womenکے نام سے قائم کیا ہے ۔اس میں لکھا :

’’ہماری مغرب کی سو سائٹی میں عورت کو گھر سے باہر نکالا گیا۔اس کے نتیجے میں ہم نے بے شک کچھ معاشی فوائد حاصل کیے اور پیداوار میں بھی اضافہ ہوا، اس لیے کہ مرد اور عورت دونوں کام کر رہے ہیں لیکن پیداوار کے زیادہ ہونے کے باوجود اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارا فیملی سسٹم تباہ ہو گیا اور اس کے نتیجے میں ہمیں جو نقصانات اٹھانے پڑے ہیں، وہ ان فوائد کے مقابلے میں زیادہ ہیں جو ہمیں پروڈکشن میں اضافے کی وجہ سے حاصل ہوئے۔

لہٰذا میں اپنے ملک میں ’پروسٹرائیکا‘ نام سے ایک تحریک شروع کر رہا ہوں۔جس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ وہ عورت جو گھر سے باہر نکل چکی ہے،اس کو کیسے گھر میں واپس لایا جائے؟اس کے طریقے سوچنے پڑیں گے،ورنہ جس طرح ہمارا فیملی سسٹم تباہ ہو چکا ہے،اسی طرح پوری قوم تباہ ہو جائے گی۔‘‘

قومی ترقی کے لیے کیا عورتوں کا ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا ناگزیرہے؟ یہ ضروری نہیں ہے۔ جاپان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ 1990ء سے پہلے وہاں کی انڈسٹری ،صنعتی ترقی اور اشیا ء نے امریکہ اور یورپ کی مارکیٹ کو پیچھے چھوڑ دیا تھا۔کیوں کہ اس وقت تک وہاں کا معاشرہ مغرب کی Feminism تحریک کے فاسداثرات سے محفوظ تھا۔

حیران کن صنعتی ترقی کے باوجود جاپانی معاشرے نے اپنی قدیم روایات اور خاندانی اَقدار کو قابل رشک انداز میں برقرار رکھاتھا۔ امریکہ اور یورپی ممالک جاپان کے ’مینجمنٹ‘ کے اصولوں سے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے اپنی نصابی کتب میں جاپان کے اْصولوں کو شامل کر لیا۔

1996ء میں ہفت روزہ ‘ٹائم’ میں ٹویوٹا کمپنی کے چیئرمین کا ایک انٹرویو شائع ہوا جس میں امریکی صحافی نے ٹویوٹا میں عورتوں کی تعداد نہایت کم ہونے کی وجہ دریافت کی تھی۔ اس کے جواب میں ٹویوٹا کے چیئرمین کا جواب نہایت دلچسپ تھا، اس نے کہا تھا:

’’ہمارے ہاں پہلے ہی سجاوٹی پھول کافی ہیں۔‘‘

٭٭٭

a3w
a3w