مشرق وسطیٰ

ابوظہبی میں ایرانی میزائل کا ملبہ گرنے سے 12 افراد زخمی ، 5 ہندوستانی بھی شامل

اس سے قبل حکام نے بتایا تھا کہ عجبان علاقے میں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے کامیاب کارروائی کے بعد ملبہ گرنے کا واقعہ پیش آیا، جس پر فوری طور پر ایمرجنسی ٹیموں نے ردعمل دیا۔

دبئی: ابوظہبی کے علاقے عجبان میں میزائل کے ملبے گرنے کے واقعے میں کم از کم 12 افراد زخمی ہو گئے ہیں، جن میں پانچ ہندوستانی شہری بھی شامل ہیں۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام نے ایک حملے کو کامیابی کے ساتھ ناکام بنایا، جس کے بعد ملبہ زمین پر آ گرا۔

متعلقہ خبریں
آوارہ کتوں کے حملہ میں چار بچے شدید زخمی
امریکہ میں ہندوستانی طالبہ کار حادثہ میں شدید زخمی

ابوظہبی میڈیا آفس کے مطابق زخمیوں میں چھ نیپالی شہری معمولی سے درمیانی نوعیت کے زخموں کا شکار ہوئے، جبکہ ایک نیپالی شہری شدید زخمی ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ پانچ ہندوستانی شہری بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور افواہوں سے گریز کریں۔

اس سے قبل حکام نے بتایا تھا کہ عجبان علاقے میں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے کامیاب کارروائی کے بعد ملبہ گرنے کا واقعہ پیش آیا، جس پر فوری طور پر ایمرجنسی ٹیموں نے ردعمل دیا۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع کے مطابق جمعہ کے روز ایران کی جانب سے داغے گئے 18 بیلسٹک میزائل، 4 کروز میزائل اور 47 بغیر پائلٹ فضائی گاڑیوں (ڈرونز) کو کامیابی کے ساتھ روکا گیا۔

وزارت کے بیان کے مطابق ایرانی حملوں کے آغاز سے اب تک مجموعی طور پر 475 بیلسٹک میزائل، 23 کروز میزائل اور 2085 ڈرونز کو تباہ کیا جا چکا ہے۔

ان حملوں کے نتیجے میں دو فوجی اہلکار اپنے قومی فرائض کی انجام دہی کے دوران ہلاک ہوئے، جبکہ ایک مراکشی شہری بھی جاں بحق ہوا جو مسلح افواج کے ساتھ کام کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے نو شہری بھی ہلاک ہوئے، جن میں پاکستانی، نیپالی، بنگلہ دیشی، فلسطینی اور ہندوستانی شہری شامل ہیں۔

حکام کے مطابق مجموعی طور پر 203 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک کے شہری شامل ہیں، اور ان کی چوٹیں معمولی سے لے کر شدید نوعیت کی ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے واضح کیا ہے کہ وہ ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور ملک کی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔

یہ واقعہ خطے میں جاری کشیدگی اور بڑھتے ہوئے خطرات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے، جہاں فضائی دفاعی نظام کی کامیابی کے باوجود عام شہری بھی متاثر ہو رہے ہیں۔