اسرائیلی دفاعی کمپنی پر حملے کے الزام میں 4 فلسطین نواز کارکنوں کو قید کی سزا
چاروں کارکنان شارلٹ ہیڈ، سیموئیل کارنر، لیونا کامیو اور فاطمہ راجوانی کو گزشتہ ماہ برسٹل شہر میں واقع اسرائیلی کمپنی 'ایلبیٹ سسٹم' کی تنصیب پر کلہاڑیوں اور ہتھوڑوں سے حملہ کرنے اور سامان تباہ کرنے کا مجرم پایا گیا تھا۔اگست 2024 میں کیے گئے اس حملے کے دوران سرخ بوائلر سوٹ پہنے ان کارکنوں نے عمارت میں داخل ہو کر کمپیوٹر، ڈرونز اور دیگر دفاعی آلات کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
لندن: برطانیہ کی ایک عدالت نے ‘فلسطین ایکشن’ گروپ سے تعلق رکھنے والے چار سرگرم کارکنوں کو ایک اسرائیلی دفاعی کمپنی کے پلانٹ پر چھاپہ مارنے اور لاکھوں ڈالرز کا نقصان پہنچانے کے الزام میں قید کی سخت سزائیں سنائی ہیں۔ برطانوی جج نے اس کارروائی کو "دہشت گردانہ فعل” قرار دیا ہے۔
چاروں کارکنان شارلٹ ہیڈ، سیموئیل کارنر، لیونا کامیو اور فاطمہ راجوانی کو گزشتہ ماہ برسٹل شہر میں واقع اسرائیلی کمپنی ‘ایلبیٹ سسٹم’ کی تنصیب پر کلہاڑیوں اور ہتھوڑوں سے حملہ کرنے اور سامان تباہ کرنے کا مجرم پایا گیا تھا۔اگست 2024 میں کیے گئے اس حملے کے دوران سرخ بوائلر سوٹ پہنے ان کارکنوں نے عمارت میں داخل ہو کر کمپیوٹر، ڈرونز اور دیگر دفاعی آلات کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔
اس دوران سیکورٹی گارڈز اور پولیس کے ساتھ ان کی جھڑپ بھی ہوئی۔کارکنوں کا موقف تھا کہ ان کا مقصد ان ڈرونز اور ہتھیاروں کو ناکارہ بنانا تھا جنہیں اسرائیلی افواج مبینہ طور پر غزہ کی پٹی میں معصوم شہریوں کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
سیموئیل کارنر (23 سال)، 7 سال اور 8 ماہ قید۔ آکسفورڈ کے اس سابق طالب علم پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک خاتون پولیس افسر کی کمر پر بھاری ہتھوڑے سے وار کیا، جس سے ان کی ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہو گیا۔ جج نے اسے "انتہائی وحشیانہ طاقت کا استعمال” قرار دیا۔
شارلٹ ہیڈ (30 سال)، 5 سال قید۔ انہوں نے کمپنی کے مرکزی گیٹ پر گاڑی ماری تھی۔
لیونا کامیو (30 سال)، 5 سال قید۔
فاطمہ راجوانی: 4 سال اور 8 ماہ قید۔سزا سنائے جانے کے دوران شارلٹ ہیڈ اور فاطمہ راجوانی عدالت میں آبدیدہ ہو گئیں۔
سزا کے اعلان کے وقت لندن کی وول وچ کراؤن کورٹ کے باہر تقریباً 500 مظاہرین جمع ہوئے جو ان کارکنوں کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔ پولیس کے مطابق، ‘فلسطین ایکشن’ گروپ کی حمایت کا اظہار کرنے پر موقع سے 107 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔