71 سال لوہے کے ڈبے میں قید رہنے والا شخص: جوانی سے بڑھاپا اسی بکسے میں گزرا، موت کے بعد ہی باہر آ سکا! (ویڈیو)
پال الیگزینڈر 30 جنوری 1946 کو پیدا ہوئے تھے۔ سال 1952 میں، جب ان کی عمر محض 6 سال تھی، تو وہ پولیو کی ہولناک وبا کا شکار ہو گئے۔ اس بیماری نے ان کے گلے سے نیچے پورے جسم کو مفلوج (Paralyze) کر دیا، یہاں تک کہ ان کے لیے خود سے سانس لینا بھی ناممکن ہو گیا۔
نئی دہلی: سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک ایسی حیرت انگیز اور دل دہلا دینے والی کہانی وائرل ہو رہی ہے، جسے سن کر ہر شخص کی آنکھیں نم اور حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔ یہ کہانی امریکہ کے ریاست ٹیکساس کے رہنے والے پال الیگزینڈر (Paul Alexander) کی ہے، جنہوں نے اپنی زندگی کے 72 سال لوہے کے ایک بکسے (جسے آئرن لنگ – Iron Lung کہا جاتا ہے) کے اندر گزار دیے۔ 6 سال کی عمر میں پولیو کا شکار ہونے والے پال اپنی موت تک اسی مشین کے محتاج رہے اور حیرت انگیز طور پر موت کے بعد ہی انہیں اس لوہے کے بکسے سے باہر نکالا گیا۔
پال الیگزینڈر 30 جنوری 1946 کو پیدا ہوئے تھے۔ سال 1952 میں، جب ان کی عمر محض 6 سال تھی، تو وہ پولیو کی ہولناک وبا کا شکار ہو گئے۔ اس بیماری نے ان کے گلے سے نیچے پورے جسم کو مفلوج (Paralyze) کر دیا، یہاں تک کہ ان کے لیے خود سے سانس لینا بھی ناممکن ہو گیا۔ اس نازک وقت پر ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کے لیے انہیں ‘آئرن لنگ’ نامی ایک بڑی مشین میں ڈال دیا۔
یہ مشین ایک بڑے لوہے کے ڈبے کی طرح تھی جو ان کے پورے جسم کو ڈھانپ لیتی تھی اور صرف ان کا سر باہر رہتا تھا۔ یہ مشین ہوا کے دباؤ کو تبدیل کر کے ان کے پھیپھڑوں کو سانس لینے میں مدد کرتی تھی۔
شروع کے 10 سال تک پال اس مشین سے ایک پل کے لیے بھی باہر نہیں نکلے، لیکن انہوں نے حالات کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے ‘فروگ بریدھنگ’ (Frog Breathing) نامی ایک خاص تکنیک سیکھی، جس کی مدد سے وہ گلے کے ذریعے ہوا کو پھیپھڑوں تک پہنچاتے تھے۔ اس تکنیک کی بدولت وہ کچھ دیر کے لیے مشین سے باہر رہنے کے قابل ہو گئے۔
اسی ناقابل یقین ہمت کے ساتھ انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی:
انہوں نے ‘سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی’ سے تعلیم حاصل کی۔
‘یونیورسٹی آف ٹیکساس’ سے قانون (Law) کی ڈگری حاصل کی۔
1986 میں وہ باقاعدہ ایک وکیل بنے اور عدالتوں میں لوگوں کے کیس لڑے۔
انہوں نے اپنے منہ میں برش پکڑ کر ایک کتاب بھی لکھی جس کا نام "Three Minutes for a Dog” تھا۔ وہ منہ سے پینٹنگ بھی کیا کرتے تھے۔
پال الیگزینڈر سوشل میڈیا پر ‘پولیو پال’ اور ‘مین ان دی آئرن لنگ’ کے نام سے مشہور ہوئے۔ گنیز ورلڈ ریکارڈز نے انہیں دنیا میں سب سے طویل عرصے تک آئرن لنگ میں زندہ رہنے والے انسان کے طور پر تسلیم کیا۔
11 مارچ 2024 کو 78 سال کی عمر میں پال الیگزینڈر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ موت سے کچھ عرصہ قبل وہ کورونا وائرس (Covid-19) کا شکار بھی ہوئے تھے۔ ان کی موت کے بعد ہی ان کے مادی جسم کو اس لوہے کے ڈبے سے ہمیشہ کے لیے باہر نکالا گیا۔ ان کے بھائی فلپ نے سوشل میڈیا پر ان کی موت کی خبر شیئر کی جس پر پوری دنیا نے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔
پال دنیا کے ان آخری چند لوگوں میں سے ایک تھے جو اس مشین کے سہارے زندہ تھے۔ پال الیگزینڈر کی زندگی یہ ثابت کرتی ہے کہ جسمانی معذوری انسان کے جذبوں اور خوابوں کو کبھی قید نہیں کر سکتی۔ وہ اس حالت میں بھی دوست بناتے تھے، گھومتے پھرتے تھے اور انہوں نے ایک بھرپور اور متحرک زندگی گزاری۔