جنتر منتر پر احتجاجی طلبا سے راہول گاندھی کی ملاقات
قائد اپوزیشن لوک سبھا راہول گاندھی نے ہفتہ کے دن کہا کہ انہوں نے جنترمنتر پر بھوک ہڑتال کررہے طلبا سے ملاقا ت کی ہے۔ اس ملاقات کے بعدمیڈیا سے بات چیت میں راہول گاندھی نے کہا کہ طلبا نے حکومت کے سامنے 3 مطالبات رکھے ہیں جن سے وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
نئی دہلی (آئی اے این ایس)قائد اپوزیشن لوک سبھا راہول گاندھی نے ہفتہ کے دن کہا کہ انہوں نے جنترمنتر پر بھوک ہڑتال کررہے طلبا سے ملاقا ت کی ہے۔ اس ملاقات کے بعدمیڈیا سے بات چیت میں راہول گاندھی نے کہا کہ طلبا نے حکومت کے سامنے 3 مطالبات رکھے ہیں جن سے وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
ایک مطالبہ یہ ہے کہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو جانا ہی ہوگا۔ دوسرا مطالبہ مظاہرین پر لاٹھی چارج کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا ہے اور تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی معافی مانگیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر تعلیم کو جو کرپٹ اور نااہل برطرف کردیا جانا چاہئے۔ مودی کی کابینہ میں بات چل رہی ہے کہ دھرمیندر پردھان کا تبادلہ کسی اور وزارت میں کردیا جائے جو ملک کے طلبا یا کسی کو بھی قبول نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دھرمیندر پردھان کرپشن کی علامت ہیں۔ وہ تباہی کا نشان بن گئے ہیں۔
کانگریس قائد نے کہا کہ ہزاروں نوجوانوں نے اپنے سروں اور پیروں پر لاٹھیاں کھائیں۔ ان کے جسموں میں پیلٹ گن کے چھرے موجود ہیں۔ راہول گاندھی نے کہا کہ یہ سب کچھ کرنے والی ساری مشنری کے قائد نریندر مودی کو معافی مانگنی ہوگی۔
کانگریس قائد نے دہلی کی جامعات بشمول ڈی یو (دہلی یونیورسٹی) اور جے این یو(جواہر لال نہرو یونیورسٹی) کی نوٹسوں کا حوالہ دیا جن میں طلبا سے کہا گیا کہ وہ جاریہ احتجاج میں حصہ نہ لیں۔ سارا سسٹم طلبا پر حملہ آور ہے۔ راہول گاندھی نے کہا کہ میں نے طلبا سے کہہ دیا ہے کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں‘ ساری حکومت ِ ہند بھی یہاں سے تمہیں نہیں ہٹاسکتی۔