یوروپ

یورپ اور کینیڈا میں حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام، عراقی رہنما گرفتار

: امریکی وزارتِ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ ایران نواز عراقی تنظیم کتائب حزب اللہ کے ایک اہم رہنما کو امریکا، کینیڈا اور یورپ میں حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

واشنگٹن: امریکی وزارتِ انصاف نے اعلان کیا ہے کہ ایران نواز عراقی تنظیم کتائب حزب اللہ کے ایک اہم رہنما کو امریکا، کینیڈا اور یورپ میں حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
نیوز چینل کا سینکڑوں ملازمین برطرف کرنے کا فیصلہ
یورپ میں قیامت خیز گرمی، شہریوں کو وارننگ جاری
ملک عراق سے واپسی پر مولانا محسن پاشاہ کی شاندار پذیرائی، مختلف مقامات پر گل پوشی اور شال پوشی کی تقریبات منعقد
عراق میں علمی و روحانی قافلے کی زیارتیں، مقدس مقامات کی زیارتوں کا سلسلہ جاری
مولانا سید شاہ نعمت اللہ قادری نے نماز مغرب کی امامت جامع مسجد کوفہ میں کی


امریکی حکام کے مطابق محمد باقر سعد داؤد السعدی پر یہودی مقامات سمیت مختلف اہداف پر دہشتگرد حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام ہے۔


ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے کہا کہ السعدی ایک انتہائی اہم ہدف تھا جو عالمی سطح پر دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہا۔


امریکا کتائب حزب اللہ کو ایک دہشتگرد تنظیم قرار دیتا ہے جبکہ یہ گروہ عراق اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون اور راکٹ حملوں کی ذمہ داری قبول کرتا رہا ہے۔


امریکی وزارتِ انصاف کے مطابق السعدی کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کیا گیا، تاہم گرفتاری کے مقام اور وقت کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔


رپورٹس کے مطابق 32 سالہ عراقی شہری کو نیویارک کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اس پر دہشتگردی سے متعلق 6 الزامات عائد کر کے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔


امریکی حکام کا کہنا ہے کہ السعدی اور اس کے ساتھیوں نے یورپ میں کم از کم 18 جبکہ کینیڈا میں 2 حملوں کی منصوبہ بندی اور رابطہ کاری کی۔


وزارتِ انصاف نے لندن، ایمسٹرڈیم اور میونخ میں یہودی عبادت گاہوں، اسرائیلی دکانوں اور یہودی اسکولوں پر حملوں اور آتشزدگی کے واقعات کا بھی حوالہ دیا۔


امریکی حکام کے مطابق السعدی نے ایک خفیہ ایجنٹ کو نیویارک، لاس اینجلس اور اسکاٹس ڈیل میں یہودی اداروں کی تصاویر اور نقشے فراہم کیے اور حملوں کی ہدایات بھی دیں۔


رپورٹ کے مطابق اس نے نیویارک کے ایک بڑے یہودی عبادت خانے پر دیسی ساختہ بم کے ذریعے حملے کے طریقہ کار پر بھی گفتگو کی، تاہم کوئی حملہ عملی طور پر نہیں ہو سکا۔