حیدرآباد

اپولو اسپتال پر بلنگ میں بے ضابطگی کا الزام، خاتون نے کارپوریٹ اسپتالوں کے رویے پر اٹھائے سوالات

حیدرآباد کے ایک اپولو اسپتال میں علاج کروانے والی ایک خاتون نے اسپتال کی بلنگ کے طریقۂ کار پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں علاج کے نام پر غیر متوقع اضافی بل ادا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے ایک اپولو اسپتال میں علاج کروانے والی ایک خاتون نے اسپتال کی بلنگ کے طریقۂ کار پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں علاج کے نام پر غیر متوقع اضافی بل ادا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔

خاتون کے مطابق اسپتال نے ابتدا میں علاج پر تقریباً ڈھائی لاکھ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ دیا تھا۔ تاہم علاج کے بعد، انشورنس موجود ہونے کے باوجود، انہیں مبینہ طور پر ڈیڑھ لاکھ روپے کا اضافی بل تھما دیا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے اضافی بل پر اعتراض کرتے ہوئے اس کی تفصیلات طلب کیں تو اسپتال عملے سے ان کی بحث ہوئی۔ خاتون کا الزام ہے کہ اعتراض کرنے کے بعد اسپتال کے عملے نے آخرکار انہیں یہ کہہ کر روانہ کر دیا کہ اب اس اضافی بل کی ادائیگی کی ضرورت نہیں ہے۔

اس واقعے کے بعد کارپوریٹ اسپتالوں کی بلنگ میں شفافیت اور مریضوں سے وصول کیے جانے والے اضافی اخراجات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ خاتون نے مطالبہ کیا کہ اسپتالوں کو علاج کے تخمینے، انشورنس کلیم اور اضافی چارجز کے بارے میں مریضوں کو مکمل اور واضح معلومات فراہم کرنی چاہئیں۔

تاہم، یہ الزامات خاتون کے بیان پر مبنی ہیں، جبکہ اس معاملے پر اپولو اسپتال کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔