مذہب

جامع مسجد محبوبیہ کے سابق خازن جناب محمد اشفاق کی وداعی تقریب

محترم اشفاق صاحب نے اپنی زندگی کا ایک قیمتی اور طویل عرصہ اللہ کے گھر کی بے لوث خدمت کے لیے لگایا ۔ بطور خازن آپ نے جس دیانت داری، امانت، اخلاص اور خلوصِ نیت کے ساتھ مسجد کے مالی و انتظامی امور کو سنبھالا، وہ ہم سب کے لیے ایک روشن مثال ہے

حیدرآباد : مسجد محبوبیہ ریاست نگر مارکٹ میں اتوار 31/ اگسٹ کو بعد نماز مغرب سابق خازن جناب محمد اشفاق صاحب کے اعزاز میں ایک پروقار تہنیتی و الوداعی تقریب منعقد کی گئی۔ جناب اشفاق صاحب اپنی طویل خدمات کے بعد جامع مسجدمحبوبیہ کے خازن کی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مجلس انتظامی و خطیب جامع مسجد محبوبیہ حضرت مولانا قاضی ابواللیث شاہ محمد غضنفر علی قریشی اسد ثنائی نے کہا کہ مسجد کی خدمت کوئی معمولی خدمت نہیں بلکہ ایک بہت بڑی سعادت ہے۔

مسجد کی ذمہ داری اٹھانا، حساب کتاب رکھنا، نمازیوں کی ضروریات کا خیال رکھنا، یہ کام صرف وہی شخص انجام دے سکتا ہے جس کے دل میں اللہ کے گھر کی سچی محبت ہو۔مولانا نے کہا کہ مسجد کے خادم کی فضیلت کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں صفائی کرنے والی ایک خاتون کو نہ دیکھا تو اس کا حال دریافت فرمایا، صحابہ کرام نے بتایا کہ وہ انتقال کر گئی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس خادمہ کی قبر پر تشریف لے گئے اور اس کے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔

محترم اشفاق صاحب نے اپنی زندگی کا ایک قیمتی اور طویل عرصہ اللہ کے گھر کی بے لوث خدمت کے لیے لگایا ۔ بطور خازن آپ نے جس دیانت داری، امانت، اخلاص اور خلوصِ نیت کے ساتھ مسجد کے مالی و انتظامی امور کو سنبھالا، وہ ہم سب کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ ایسی مسجد جہاں آمدنی کے مستقل ذرائع نہ ہوں، اس کی ذمہ داری نبھانا، اسے احسن طریقے سے چلانا اور ہر مشکل گھڑی میں اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے مسجد کی ضرورتوں کو پورا کرنا، یقیناً آپ کے حوصلے، ہمت کی دلیل ہے، اگرچہ جناب اشفاق صاحب آج اس عہدے سے سبکدوش ہو رہے ہیں، لیکن مسجد سے آپ کا روحانی رشتہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔

قاری محمد تراب علی قریشی نائب امام کی قرأت اور جناب سہیل عظیم کی نعت سے تقریب کا آغاز ہوا۔ مفسرِ قرآن حضرت مولانا مفتی حافظ محمد وجیہ اللہ سبحانی، امام جامع مسجد محبوبیہ نے جناب اشفاق صاحب کی بے لوث خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا کہ مسجد کی خدمت دراصل اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت ہے، اور جناب اشفاق صاحب نے برسوں تک اس تجارت میں اخلاص، دیانت اور خاموشی کے ساتھ اپنا وقت، اپنی صلاحیتیں اور اپنی محبتیں لگائیں۔ انہوں نے بغیر کسی دنیاوی لالچ اور شہرت کی خواہش کے، صرف رضائے الٰہی کی خاطر جس مستعدی سے مسجد کے حسابات اور ضروریات کو سنبھالا، وہ قابلِ تقلید ہے۔

اس موقع پر رکنِ بلدیہ و سرپرستِ مسجد کمیٹی جناب مرزا سلیم بیگ نے کہا کہ گزشتہ 60-65 سالوں میں اس عظیم مسجد کو چار خازنوں کی خدمات حاصل رہی ہیں۔ پہلے خازن جناب عزیز طاہر صاحب مرحوم، دوسرے حضرت سید یوسف صاحب مرحوم، تیسرے جناب یعقوب علی صاحب مرحوم اور چوتھے ہمارے محترم جناب محمد اشفاق صاحب ہیں۔ ایسی مسجد کی ذمہ داری اٹھانا جہاں آمدنی کے مستقل ذرائع نہ ہوں، بڑی ہمت اور اللہ پر توکل کا کام ہے۔ آخر میں مسجد کمیٹی کی جانب سے جناب محمد اشفاق صاحب کی شال پوشی و گلپوشی کی گئی اور ان کی مثالی خدمات پر سپاس نامہ پیش کیا گیا۔ کمیٹی اور تمام مصلیانِ مسجد کی جانب سے ان کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا گیا اور دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور اسے ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔