عنبرپیٹ میں غریبوں کو مکانات الاٹ نہ ہونے پر حکومت سے آواز تنظیم فوری کارروائی کا مطالبہ
انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عوام میں ناراضگی بڑھ سکتی ہے اور حکومت کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ مستحق افراد کی نشاندہی کر کے انہیں اسی مقام پر مکانات فراہم کیے جائیں۔
حیدرآباد: شہر کے علاقے عنبرپیٹ میں تنظیم آواز کے زیر اہتمام ایک اہم نمائندگی کرتے ہوئے ایم آر او دفتر سے ملاقات کی گئی، جس میں غریب اور مستحق افراد کو مکانات الاٹ نہ کیے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔
تنظیم کے ذمہ داران نے بتایا کہ گزشتہ ڈھائی برسوں سے کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی غریب عوام کو مکانات فراہم نہیں کیے گئے، حالانکہ اس سلسلے میں متعدد بار ایم آر او، کلکٹر اور دیگر اعلیٰ حکام سے رجوع کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بار بار درخواستیں دینے کے باوجود اب تک کسی مستحق کو مکانات الاٹ نہیں کیے گئے۔
اس موقع پر ملک پیٹ کے علاقوں دھوبی گلی، شنکر نگر اور بانو نگر کے عوام نے بھی اپنی مشکلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ تنظیم آواز کے سٹی سکریٹری عبدالستار پرنس نے کہا کہ لاکھوں مستحق شہری پہلے بھی ڈبل بیڈ روم مکانات کیلئے درخواست دے چکے ہیں، لیکن سابقہ حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی وعدوں پر عمل درآمد میں ناکام نظر آ رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو عوام میں ناراضگی بڑھ سکتی ہے اور حکومت کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ مستحق افراد کی نشاندہی کر کے انہیں اسی مقام پر مکانات فراہم کیے جائیں۔
تنظیم آواز نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ حکومت کرایہ کے مکانات میں رہنے والے غریب مزدوروں کیلئے خصوصی اقدامات کرے، یا تو مکان مالکان کو کرایہ کم کرنے کی ہدایت دی جائے یا پھر حکومت خود کرایہ میں مدد فراہم کرے، تاکہ یومیہ مزدوری کرنے والے افراد اپنے بچوں کی تعلیم اور صحت پر بہتر توجہ دے سکیں۔
اس موقع پر محمد فہیم سمیت کئی خواتین نے بھی شرکت کی اور اپنے مسائل پیش کیے۔ ایم آر او نے وفد کو یقین دہانی کرائی کہ وہ ان مسائل کو حکومت تک پہنچائیں گے اور حل کیلئے کوشش کریں گے۔