غازی آباد میں نمازِ جمعہ روکنے کی کوشش، ملک میں بڑھتی مذہبی کشیدگی پر سنگین سوالات
ہندو رکشا دل کے کارکنوں کی بڑی تعداد مساجد کے اطراف جمع ہوگئی اور جمعہ کی نماز میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ اس دوران اشتعال انگیز نعرے بھی سنائی دیے، جس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے
غازی آباد: اتر پردیش کے غازی آباد کے کھوڑا علاقے سے سامنے آنے والے مناظر نے ایک بار پھر ملک میں مذہبی آزادی، آئینی حقوق اور سماجی ہم آہنگی کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ہندو رکشا دل کے کارکنوں کی بڑی تعداد مساجد کے اطراف جمع ہوگئی اور جمعہ کی نماز میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ اس دوران اشتعال انگیز نعرے بھی سنائی دیے، جس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
یہ احتجاج سوریا پرتاپ چوہان نامی نوجوان کے قتل کے خلاف کیا گیا، جس کے ملزمان کے خلاف پولیس پہلے ہی کارروائی کر چکی ہے۔ مرکزی ملزم اسد پولیس مقابلے میں مارا جا چکا ہے۔ اس کے باوجود معاملہ صرف ایک مجرمانہ واقعے تک محدود نہیں رہا بلکہ اسے مذہبی رنگ دے کر پورے سماج میں تقسیم پیدا کرنے کی کوششیں دیکھی جا رہی ہیں۔
سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر کسی فرد نے جرم کیا ہے تو کیا اس کی سزا پورے مذہب یا پوری برادری کو دی جا سکتی ہے؟ ہندوستان کا قانون انفرادی جرم کو انفرادی ذمہ داری قرار دیتا ہے، اجتماعی سزا کو نہیں۔ اگر ایک شخص مجرم ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، لیکن کسی مسجد، مدرسے یا پوری کمیونٹی کو نشانہ بنانا انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ بعض تنظیموں کے رہنماؤں کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے جن میں نماز اور مساجد کے خلاف کھلے عام دھمکیاں دی گئیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہ یا مذہبی رسومات کے بارے میں ایسے بیانات دیے جاتے تو کیا ردعمل یہی ہوتا؟
ہندوستان کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اپنی عبادت انجام دینے کا بنیادی حق دیتا ہے۔ یہی آئین مندر، مسجد، گرجا گھر اور گردوارے سب کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر آج کسی ایک مذہب کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنا معمول بن جائے تو کل یہی خطرہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بھی لاحق ہو سکتا ہے۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ملک کے اصل مسائل — مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت اور ترقی — پس منظر میں چلے جاتے ہیں جبکہ مذہبی کشیدگی سرخیوں میں آجاتی ہے۔ نفرت اور تقسیم کی سیاست وقتی سیاسی فائدہ تو دے سکتی ہے، لیکن اس کا نقصان پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ قانون سب پر یکساں طور پر نافذ ہو، اشتعال انگیز تقاریر اور مذہبی منافرت پھیلانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے، اور ملک کو اس راستے پر واپس لایا جائے جہاں اختلاف کے باوجود باہمی احترام اور آئین کی بالادستی قائم رہے۔
ہندوستان کی طاقت اس کے تنوع، رواداری اور گنگا جمنی تہذیب میں ہے، نہ کہ نفرت، تقسیم اور ایک دوسرے کے مذہبی حقوق سلب کرنے میں۔